رسائی کے لنکس

امریکہ سےمذاکرت صرف طالبان کی قیادت میں:حقانی نیٹ ورک


طالبان شدت پسند (فائل فوٹو)

طالبان شدت پسند (فائل فوٹو)

افغانستان میں اتحادی و افغان اہداف پر حملوں میں ملوث حقانی نیٹ ورک نے کہا ہے کہ وہ انفرادی طور پر امریکہ کے ساتھ امن بات چیت میں حصہ نہیں لے گا اور طالبان قیادت ہی ان مذاکرات کی سربراہی کرے گی۔

تنظیم کے ایک کمانڈر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا ہے کہ ’’طالبان شوریٰ کے ساتھ بات چیت کے بغیر اُن (امریکیوں) کے لیے افغان جنگ کا حل ڈھونڈنا ممکن نہیں ہوگا۔‘‘

گزشتہ ہفتے امریکی وزیر خارجہ ہلری کلنٹن نے دورہ اسلام آباد کے موقع پر پاکستان پر زور دیا تھا کہ وہ حقانی نیٹ ورک کو امن مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔ اُنھوں نے یہ انتباہ بھی کیا تھا کہ افغانستان میں اسحتکام کی کوششوں میں افغان اور پاکستانی عسکریت پسندوں کے عدم تعاون کی صورت میں اُن کے خلاف سخت کارروائی جاری رہے گی۔

لیکن خبر رساں ایجنسی کو دیے گئے انٹرویو میں حقانی نیٹ ورک کے کمانڈر نے امریکی وزیر خارجہ کے بیان کو مشکوک قرار دیا اور کہا کہ امن بات چیت کے لیے اُن کی تنظیم کے ساتھ امریکہ کا یہ پہلا رابطہ نہیں ہے۔

’’امریکیوں نے مذاکرات کے لیے کئی مرتبہ کوششیں کی ہیں لیکن ہم نے انھیں مسترد کردیا کیونکہ ہم ملا محمد عمر کی قیادت میں طالبان کا اٹوٹ انگ ہیں۔ ہم سب متحد ہیں اور ہمارا مقصد افغانستان کو قابض افواج سے آزاد کرانا ہے۔‘‘

امریکہ کا ماننا ہے کہ پاکستان میں شمالی وزیرستان کا علاقہ حقانی نیٹ ورک کا مرکز ہے جہاں سے اس کے جنگجو سرحد پار افغانستان میں امریکہ اور اتحادی افواج پر حملے کر تے ہیں۔ امریکی حکام یہ الزام بھی لگاتے ہیں کہ پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی حقانی نیٹ ورک سے رابطے میں ہے اور ان کا مطالبہ ہے کہ ان رابطوں کو استعمال کر کے پاکستان اس جنگجو تنظیم کو مذاکرات کی میز پر لےکر آئے۔

XS
SM
MD
LG