رسائی کے لنکس

افغانستان میں داعش کے جنگجوؤں میں اکثریت پاکستانی طالبان کی ہے: جنرل نکولسن


فائل فوٹو

فائل فوٹو

تجزیہ کار لفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ امجد شعیب نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ بظاہر یہ بات درست ہے کہ داعش میں پاکستانی طالبان کے جنگجو شامل ہیں۔

افغانستان میں تعینات امریکی افواج کے کمانڈر جنرل جان نکولسن نے اپنے ایک حالیہ بیان میں کہا کہ افغانستان میں شدت پسند تنظیم داعش میں شامل جنگجوؤں کی اکثریت کا تعلق کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے ہے۔

امریکہ میں موجود صحافیوں کو گزشتہ ہفتے دی گئی بریفنگ میں جنرل نکولسن نے کہا ہے کہ افغانستان میں داعش کے جنگجوؤں کی ایک اچھی خاصی تعداد پاکستان سے آئی اور اُن کا تعلق کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ تحریک طالبان پاکستان کے یہ جنگجو ملک میں دہشت گردوں کے خلاف جاری آپریشن ’ضرب عضب‘ کے باعث فرار ہو کر افغانستان میں آئے۔

پاکستانی سرحد کے قریب افغانستان کے صوبہ ننگرہار میں ’داعش‘ کے جنگجو سرگرم ہیں، جن کے خلاف نا صرف افغان فورسز کارروائیوں میں مصروف ہیں بلکہ اُنھیں امریکی فورسز کی فضائی مدد بھی حاصل ہے۔

گزشتہ ہفتے ہی افغانستان میں داعش کے خلاف کارروائی میں افغان حکام کے مطابق اس تنظیم کے 120 سے زائد جنگجو مارے گئے تھے۔

تجزیہ کار لفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ امجد شعیب نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ بظاہر یہ بات درست ہے کہ داعش میں پاکستانی طالبان کے جنگجو شامل ہیں۔

’’اس میں تھوڑی بہت سچائی موجود ہے اور کچھ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی سے) الگ ہونے والے گروپ اس میں شامل ہیں لیکن ان میں کچھ افغان طالبان سے الگ ہونے والے لوگ بھی شامل ہیں اور افغان طالبان کے اپنے بھی اختلافات موجود ہیں اور انھوں نے ان کے خلاف کارروائیاں بھی کی ہیں‘‘۔

پاکستان کی طرف سے یہ کہا جاتا رہا ہے کہ ملک میں ’داعش‘ کا منظم وجود نہیں ہے۔ تاہم یہ حقیقت ہے کہ پاکستان میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کے باعث تحریک طالبان پاکستان سمیت مختلف تنظیموں کے جنگجو سرحد پار افغانستان فرار ہو گئے۔

’داعش‘ میں تحریک طالبان پاکستان کے جنگجوؤں کی شمولیت سے متعلق امریکی جنرل کے بیان کے بارے میں پاکستان کی طرف سے کوئی ردعمل تو سامنے نہیں آیا تاہم پاکستان کی طرف سے بارہا یہ کہا جاتا رہا ہے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف عالمی برادری سے تعاون جاری رکھے گا۔

پیر کو بھی اسلام آباد میں سلامتی سے متعلق ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ انتہا پسندانہ نظریہ عالمی امن کے لیے خطرہ ہے۔

ایک سرکاری بیان کے مطابق وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اور خطے کو نسلی اور مذہبی امتیاز سے محفوظ بنانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے۔

XS
SM
MD
LG