رسائی کے لنکس

قومی امن جرگے پر طالبان کا حملہ

  • ب

افغان حکام نے بتایا کہ راکٹوں اور خودکارہتھیاروں سے لیس مشتبہ طالبان عسکریت پسندوں نے کابل میں قومی امن جرگے کا اجلاس شروع ہونے کے چند منٹ بعد حملہ کرکے اس میں خلل ڈالنے کی کوشش کی لیکن انھیں کامیابی نہ ہو سکی اور سکیورٹی فورسز نے تشدد کی اس کارروائی میں حصہ لینے والے کم ازکم دو خودکش بمباروں کوہلاک کردیا ۔

حملے کے وقت صدر حامد کرزئی تین روزہ جرگے کے افتتاحی اجلاس سے پشتو زبان میں خطاب کر رہے تھے اور باہر دھماکوں کی آوازیں آرہی تھیں جس پر اپنی تقریر کے دوران افغان صدر نے گھبراہٹ کا شکار اور اٹھ کرجانے والے بعض شرکاء سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ پریشا ن ہونے کی ضرورت نہیں اورآپ سب لوگ سکون سے بیٹھ جائیں کیونکہ یہ سب ہی ان حالات کے عادی ہو چکے ہیں۔

افغان صدر نے تقریر جاری رکھتے ہوئے طالبان عسکریت پسندوں سے اپیل کی کہ وہ افغانستان کے امن وا ستحکام کے لیے تشدد کی راہ ترک کردیں۔ انھوں نے کہا کہ ملک میں کئی سالوں سے جاری تشدد اور خانہ جنگی نے عام افغانوں کو بدحالی کا شکار کر دیا ہے اس لیے وہ طالبان اور حزب اسلامی جیسی عسکری تنظیموں میں شامل ہونے پر مجبور ہو گئے ہیں۔

صدر کرزئی نے کہا کہ افغانستان میں اگر لڑائی جاری رہی تو غیر ملکی افواج کی واپسی کے عمل میں رکاوٹ آئے گی۔ انھوں نے کہا کہ اگر شورش پسند افغان حکومت سے امن کی بات نہیں کریں گے تو وہ بھی بین الاقوامی افواج کو ملک سے جانے کا نہیں کہیں گے۔

سابق افغان صدر سبغت اللہ مجددی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امن بات چیت شروع کرنے کے لیے طالبان اور دوسرے مخالف گروہوں کا بنیاد ی مطالبہ افغانستان سے غیر ملکی افواج کا انخلا ہے لیکن ان کے بقول اگر موجودہ حالات میں بین الاقوامی فوج ملک سے واپس چلی گئی تو حالات قابوں سے باہر ہو سکتے ہیں۔

خیال رہے کے کابل میں ہونے والے تین روز جرگے میں ملک بھر سے آئے ہوئے لگ بھگ1600 افغان عمائدین، سیاست دان اور دانشور شرکت کر رہے ہیں اور اس اجلاس میں افغانستان میں قیام امن کی کوششوں میں طالبان عسکریت پسندوں کو شامل کرنے کی صدر کرزئی کی حکمت عملی پر غور کیا جائے گا۔

XS
SM
MD
LG