رسائی کے لنکس

جنرل محمد ظاہر کے اتوار کو مستعفی ہونے سے کچھ دیر قبل ہی عہدیداروں کے طرف سے ہفتہ کو کابل میں ایک غیر ملکی گیسٹ ہاؤس پر ہونے والے حملے میں غیر ملکی شخص اور اس کے دو بچوں کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی۔

افغانستان کے دارالحکومت کابل کے پولیس سربراہ نے شہر میں طالبان کی طرف سے بڑھتے ہوئے حملوں کے بعد اپنے عہدے سے استعفی دے دیا ہے۔

حالیہ مہینوں میں غیر ملکیوں، امریکی فوجیوں، سفارتخانے کی گاڑیوں اور گیسٹ ہاؤسز کو پرتشد کارروائیوں میں نشانہ بنایا جا چکا ہے۔

جنرل محمد ظاہر کے اتوار کو مستعفی ہونے سے کچھ دیر قبل ہی عہدیداروں کے طرف سے ہفتہ کو کابل میں ایک غیر ملکی گیسٹ ہاؤس پر ہونے والے حملے میں جنوبی افریقہ کے ایک شہری، اس کے دو بچے اور ایک افغان شہری کی ہلاکتوں کے تصدیق کی گئی تھی۔

حکومتی اور فوجی عہدیداروں نے ہفتہ کو ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بتایا کہ تین مسلح افراد نے پارلیمان کے قریب واقع گیسٹ ہاؤس پر حملہ کیا اور وہ اس پر قبضہ کرنے کی کوشش میں کئی گھنٹوں تک فائرنگ کرتے رہے۔

وزارت داخلہ کے ترجمان صادق صدیقی نے کہا کہ حملہ آوروں میں سے دو کو ہلاک کر دیا گیا جبکہ تیسرے حملہ آور نے اپنے جسم کے ساتھ بندھے بارودی مواد سے اپنے آپ کو اڑا دیا۔

سکیورٹی فورسز نے اس حملے کے دوران یرغمال بنائے گئے آٹھ افراد کو بچا لیا جس میں چھ افغان اور دو غیر ملکی شہری تھے۔

طالبان نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔

گیسٹ ہاؤس پر ہونے والا حملہ کابل اور اس کے گرد و نواح میں ہونے والے حملوں کے سلسلے کا ایک حصہ ہے جہاں کئی سفارت خانے اور بین الاقوامی تنظمیوں کے دفاتر واقع ہیں۔

XS
SM
MD
LG