رسائی کے لنکس

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے ذرائع ابلاغ کو بھیجے گئے ایک بیان میں کہا کہ یہ ان کے چھ ساتھیوں کو حال میں دی گئی سزائے موت کا ردعمل ہے۔

افغانستان کے دارالحکومت کابل میں بدھ کی صبح ہونے والے ایک خودکش بم حملے میں 11 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے۔

وزارت داخلہ کے ایک نائب ترجمان نجیب دانش کے مطابق عدالتی ملازمین کو لے جانے والی گاڑی کو خودکش بمبار نے نشانہ بنایا۔

ان کے بقول حملہ آور پیدل تھا جس نے خود کو گاڑی کے قریب پہنچ کر دھماکے سے اڑا لیا۔

مرنے اور زخمی ہونے والوں میں عدالتی عملے کے علاوہ عام شہری بھی بتائے جاتے ہیں۔

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے ذرائع ابلاغ کو بھیجے گئے ایک بیان میں کہا کہ یہ ان کے چھ ساتھیوں کو حال میں دی گئی سزائے موت کا ردعمل ہے۔

رواں ماہ کے اوائل میں دہشت گردی کے جرم میں چھ طالبان قیدیوں کو پل چرخی جیل میں تختہ دار پر لٹکایا گیا تھا۔

کابل میں تازہ بم حملہ ایک ایسے وقت پیش آیا ہے جب طالبان نے اپنے امیر ملا منصور کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے مولوی ہیبت اللہ کو اپنا نیا سربراہ مقرر کیا ہے۔

حالیہ مہینوں میں طالبان نے افغانستان میں اپنی پرتشدد کارروائیوں میں اضافہ کیا تھا اور کابل سمیت ملک کے مختلف حصوں میں کئی مہلک حملوں میں سکیورٹی فورسز اور عام شہریوں کو نشانہ بنایا۔

گزشتہ ماہ ہی کابل میں سکیورٹی ادارے کے ایک دفتر پر ہونے والے بم حملے میں لگ بھگ 70 افراد ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہوگئے تھے۔

اس حملے کی ذمہ داری بھی طالبان نے قبول کی تھی۔

XS
SM
MD
LG