رسائی کے لنکس

’نیٹو شہری آبادی پر فضائی حملے بند کرے‘


’نیٹو شہری آبادی پر فضائی حملے بند کرے‘

افغان صدر نے نیٹو افواج کو متنبہ کیا ہے کہ وہ شہری آبادیوں پر فضائی حملے بند کر دے کیوں کہ یہ کارروائیاں افغانوں کے لیے مزید قابل برداشت نہیں ہیں۔

منگل کو کابل میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر حامدکرزئی کا کہنا تھا کہ نیٹو کے فضائی حملوں پر افغان حکومت کا موقف واضح ہے اور بین الاقوامی افواج کو کئی مرتبہ دو ٹوک الفاظ میں اس سے آ گاہ کیا جا چکا ہے۔

”اگر یہ (کارروائی) دوبارہ ہوئی تو افغانستان کے پاس اس کو روکنے کے کئی ذریعے موجود ہیں، لیکن ہم اُس نہج تک نہیں جانا چاہتے اور ہماری خواہش ہے کہ نیٹو ان حملوں کو از خود بند کر دے۔“

افغان صدر نے اپنے اس سخت ترین بیان سے ایک روز قبل کہا تھا کہ شدت پسندوں کے خلاف کارروائیوں میں شہری ہلاکتوں پر وہ آخری مرتبہ اتحادی افواج کو تنبیہ کر رہے ہیں۔حامد کرزئی نے کہا کہ نیٹو افواج کی شہری املاک پر بمباری روکنے کے لیے افغانستان ایک متفقہ حل کا خواہاں ہیں لیکن اگر ایسا ممکن نا ہوا تو وہ یک طرفہ اقدامات کرنے پر مجبور ہوگا۔

اُن کا کہنا تھا کہ افغانستان ایک خودمختار ملک ہے لیکن بسا اوقات اتحادیوں کے بیانات سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ اس امر سے واقف نہیں ہیں۔

’نیٹو شہری آبادی پر فضائی حملے بند کرے‘

’نیٹو شہری آبادی پر فضائی حملے بند کرے‘

اُنھوں نے کہا کہ بین الاقوامی افواج کو اس بات کا مظاہرہ کرنا ہو گا کہ افغانستان اُن کا اتحادی ہے نا کہ ایک زیر قبضہ ملک۔ ”اگر اُن کا رویہ قابض افواج کاہوا تو بالا شبہ افغان اس معاملے سے نمٹنا جانتے ہیں۔“صدر کرزئی کا کہنا تھا کہ وہ کابل میں نیٹو کے اعلیٰ عہدے داروں سے ملاقات کرکے اُنہیں اپنی عوام کے موقف سے ایک مرتبہ پھر آگا بھی کریں گے۔

گزشتہ اتوار کو صوبہ ہلمند میں نیٹو کی طرف سے دو گھروں پر حملے کے نتیجے میں دو خواتین اور 12بچے ہلاک ہوگئے تھے۔ جس کے بعدایک روز قبل اتحادی افواج نے شہری ہلاکتوں پر معذرت کی تھی۔

XS
SM
MD
LG