رسائی کے لنکس

نیٹو کارروائی میں چار افغان بچوں کی ہلاکت کی شدید مذمت


صدر حامد کرزئی (فائل فوٹو)

صدر حامد کرزئی (فائل فوٹو)

صدر کرزئی نے ایک بیان میں کہا کہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کی یقین دہانیوں کے باوجود، معصوم افغان بشمول بچے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنی جانیں گنوا رہے ہیں۔

افغانستان کے صدر حامد کرزئی نے صوبہ لوگر میں نیٹو افواج کی ایک کارروائی میں چار بچوں کی ہلاکت کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔

کابل میں صدارتی دفتر سے منگل کو جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ صوبائی گورنر محمد اقبال عزیزی نے اطلاع دی کہ اتوار کی دوپہر براکائی براک ضلع میں نیٹو افواج نے دو مسلح عسکریت پسندوں کو گرفتار کرنے کے لیے ایک کارروائی کی، لیکن قدرتی چراہ گاہ میں جانوروں کے ساتھ موجودہ چار بے گناہ بچے اس کی زد میں آ کر ہلاک ہو گئے۔

بیان کے مطابق صدر کرزئی نے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہری ہلاکتوں پر افسوس کا اظہار کیا۔

’’نیٹو کی طرف سے بار بار شہری ہلاکتوں سے بچنے کی یقین دہانیوں کے باوجود، معصوم شہری بشمول بچے اس دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنی جانیں گنوا رہے ہیں، جس کی آماجگاہیں اور محفوظ ٹھکانے افغانستان کے باہر بدستور قائم ہیں۔‘‘

صدر کرزئی نے منگل کی صبح صوبائی گورنر کو واقعے کی مفصل تحقیقات کرکے انھیں رپورٹ پیش کرنے کا کہا ہے۔

افغانستان میں نیٹو افواج کی طرف سے شدت پسندوں کے خلاف کارروائیوں میں شہری ہلاکتیں صدر کرزئی کی حکومت اور بین الاقوامی اتحاد کے درمیان تناؤ کا باعث بنتی رہی ہیں۔ افغان صدر پہلے بھی اس بارے میں بارہا متنبہ کرچکے ہیں جب کہ نیٹو حکام بھی شہریوں کی ہلاکتوں سے حتی الامکان بچنے کے لیے متعدد اقدامات کی یقین دہانی کرا چکے ہیں۔
XS
SM
MD
LG