رسائی کے لنکس

میجر جنرل محمد معین فقیر کو اٹارنی جنرل کے انسداد بدعنوانی جسٹس سینیٹر کی طرف سے گرفتار کیا گیا۔

افغانستان میں ایک سینیئر جنرل کو بدعنوانی اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزامات میں گرفتار کیا گیا ہے۔

افغان وزارت دفاع کے ترجمان دولت وزیری نے 27 مارچ کو ایک بیان میں کہا کہ میجر جنرل محمد معین فقیر کو اٹارنی جنرل کے انسداد بدعنوانی جسٹس سینیٹر کی طرف سے گرفتار کیا گیا۔

تاہم اس بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئی ہیں۔

افغان حکومت نے 2016 میں میجر جنرل فقیر کو صوبہ ہلمند میں بدعنوانی کے خلاف کریک ڈاؤن کے لیے تعینات کیا تھا۔

خبر رساں ادارے ’رائیٹرز‘ کے مطابق میجر جنرل فقیر کو صوبہ ہلمند میں افغان آرمی کی 215 ویں کور کی کمانڈ کے لیے بھیجا گیا تھا، کیوں کہ اُن کے پیش رو کمانڈر پر الزام تھا کہ اُنھوں نے ’گھوسٹ فوجیوں‘ یعنی فرضی فوجیوں کے نام پر رقوم کی ادائیگی کی۔

جب کہ میجر جنرل معین فقیر سے قبل ہلمند میں تعینات فوج کے کمانڈر پر فوجی یونٹس کی کارکردگی کے بارے میں بھی سوال اٹھائے جا رہے تھے۔

افغان صدر اشرف غنی بار ہا کہہ چکے ہیں بدعنوانی کو برداشت نہیں کیا جائے گا، کیوں کہ یہ ملک کو درپیش ایک بڑا چیلنج ہے۔

اگرچہ ملک میں اعلیٰ سطح پر بدعنوانی کی موجودگی پر صدر اشرف غنی کو تنقید کا بھی سامنا رہا لیکن ملک میں بدعنوانی کے خاتمے کے لیے قائم نئے ادارے ’انسداد بدعنوانی جسٹس سینیٹر‘ کی طرف سے اب اعلیٰ منصبوں پر تعینات عہدیداروں کے خلاف بھی کارروائی کی جا رہی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG