رسائی کے لنکس

افغانستان میں قتل عام، امریکی فوجی کی عدالت میں پیشی


فائل فوٹو

فائل فوٹو

پیر کو واشنگٹن میں لیوز میک کورڈ نامی اڈے پر ہونے والی ابتدائی سماعت میں اسٹاف سارجنٹ بیلز کے کورٹ مارشل کا سامنا کرنے کے بارے میں تعین کیا جائے گا۔

افغانستان میں ہونے والے قتل عام میں مبینہ طور پر ملوث امریکی فوجی کو پیر کے روز عدالت میں پیش کیا جارہا ہے جہاں وکلائے استغاثہ پہلی بار اپنا مقدمہ پیش کریں گے۔

39 سالہ اسٹاف سارجنٹ رابرٹ بیلز پر الزام ہے کہ انہوں نے رواں سال مارچ میں جنوبی افغانستان میں رات کی تاریکی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے فوجی اڈے کے قریب ایک گاؤں میں نو بچوں سمیت 16 افراد کو گولیاں مار کر ہلاک کیا جبکہ کچھ لاشوں کو جلا بھی دیا تھا۔

پیر کو واشنگٹن میں لیوز میک کورڈ نامی اڈے پر ہونے والی ابتدائی سماعت میں بیلز کے کورٹ مارشل کا سامنا کرنے کے بارے میں تعین کیا جائے گا۔

توقع ہے کہ متاثرہ خاندانوں کے گواہان جنوبی افغانستان سے بذریعہ وڈیو لنک اپنا بیان ریکارڈ کرائیں گے۔

اس واقعہ میں متاثرہ خاندانوں کو امریکی افواج نے معاوضہ ادا کیا تھا۔

بیلز کی بیوی اور اس کا وکیل، جان براؤنی، یہ کہہ چکے ہیں کہ یہ فوجی ان ہلاکتوں کے بارے میں کچھ یاد نہیں کرسکتا۔

براؤنی یہ اعتراف کرچکے ہیں فوج میں شراب نوشی پر پابندی کے باوجود ان کے موکل نے فائرنگ کے واقعے سے قبل کچھ پی رکھا تھا۔ ان کے بقول بظاہر دو بچوں کے باپ بیلز مسلسل جنگوں میں حصہ لینے کی وجہ سے ذہنی دباؤ کا شکار تھا۔

بیلز گزشتہ سال دسمبر میں افغانستان بھیجے جانے سے قبل عراق میں بھی تعینات رہ چکا تھا۔ یہ اطلاعات بھی ہیں کہ 2010ء میں عراق میں اس کے سر پر چوٹ بھی آئی تھی۔

الزام ثابت ہونے کی صورت میں بلیز کو سزائے موت کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ امریکی افواج نے گزشتہ پانچ دہائیوں میں اپنے کسی بھی اہلکار کو سزائے موت نہیں دی ہے۔
XS
SM
MD
LG