رسائی کے لنکس

مک کرسٹل کی تبدیلی پر افغانوں کی آراء

  • شان میرونی

امریکہ کے صدر براک اوباما نے افغانستان میں جنرل اسٹینلی مک کرسٹل کی جگہ جنرل ڈیوڈ پٹریاس کو اعلیٰ فوجی کمانڈر مقرر کیا ہے۔ یہ اعلان ایسے مہینے میں کیا گیا ہے جو نیٹو کے لیے مہلک ترین مہینہ ہے۔

اس بار افغانستان میں جون کے مہینے میں بین الاقوامی فورسز کے سب سے زیادہ فوجی ہلاک و زخمی ہوئے ہیں۔ افغانستان میں ایک اور غیر متوقع بات یہ ہوئی کہ نیٹو کے اعلیِٰ ترین کمانڈ ر، امریکی جنرل اسٹینلی مک کرسٹل نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ صدر براک اوباما نے ان کا استعفیٰ منظور کر لیا اور اس کے ساتھ ہی ان کی جگہ امریکی جنرل ڈیوڈ پٹریاس کے تقرر کا اعلان کر دیا۔

تجزیہ کاروں کو امید ہے کہ امریکی کانگریس جلد ہی ان کے تقرر کی توثیق کر دے گی کیوں کہ چند سال پہلے جنرل پٹریاس عراق میں کامیابی سے فوجی حکمت عملی تبدیل کر چکے ہیں۔ لیکن کابل کی سڑکوں پر، عام افغان کہتے ہیں کہ انہیں کچھ نہیں معلوم کہ مستقبل میں کیا ہوگا۔

کابل کے عام شہری شفیق اللہ بھی اُن لوگوں میں شامل ہیں جو مک کرسٹل کی کارکردگی سے بہت خوش تھے۔ ’’جنگ کے پہلے نو برسوں میں، ہلاک اور زخمی ہونے والے سویلین باشندوں کی تعداد بہت زیادہ تھی لیکن ایک سال پہلے جب مک کرسٹل آئے تو سویلین اموات بہت کم ہو گئیں‘‘۔

ایک اور شہری پامیرنے بتایا کہ ان کے خیال میں مک کرسٹل اچھے آدمی تھے کیوں کہ انھوں نے سویلین آبادی کے ساتھ تعلقات ٹھیک کر لیے اور افغان عوام کے ساتھ انھوں نے اچھا سلوک کیا۔

افغانستان کے صدر حامد کرزئی بھی مک کرسٹل کے مداحوں میں ہیں۔ ان کے ایک ترجمان وحید عمر نے صحافیوں کو بتایا ’’مک کرسٹل کا چلے جانا بدقسمتی کی بات ہے لیکن جنرل پٹریاس کی آمد اچھی خبر ہے‘‘۔

وحید عمرنے بتایا کہ صدرحامد کرزئی کا خیال ہے کہ مک کرسٹل کی جگہ پٹریاس کا لگایا جانا بہترین فیصلہ ہے ’’صدر اوباما کے اس فیصلے سے افغانستان سے ان کی وابستگی کا اظہار ہوتا ہے ۔ جنرل پٹریاس اس علاقے کواورافغانستان کو اچھی طرح جانتے ہیں۔ افغانستان میں جو کچھ ہو رہا ہےاس پر اُنھوں نے کڑی نظر رکھی ہے اور وہ افغانستان کے لیے موجودہ حکمت عملی تیار کرنے مِیں بھی شریک تھے۔ وہ افغانستان کے لیے اجنبی نہیں ہیں‘‘۔

تاہم علاقے کے بعض ماہرین کا اب بھی یہی خیال ہے کہ جنرل پیٹریاس کے سامنے جو کام ہے وہ بہت مشکل ہے۔ تجزیہ کاروں نے اس بات پر مک کرسٹل کی تعریف کی ہے کہ اُنھوں نے نیٹو کے مشن میں جان ڈال دی تھی اور افغان عوام پر توجہ مرکوز کی تھی جس کے نتیجے میں ہلاک و زخمی ہونے والے سویلین باشندوں کی تعداد کافی کم ہو گئی تھی۔

محمد اکرم پکتیکا صوبے کے سابق گورنر ہیں۔ انھوں نے کابل میں وائس آف امریکہ کو بتایا کہ ان کے خیال میں مک کرسٹل نے اپنی نئی اسٹریٹجی کے ذریعے اچھا کام کیا۔ مثلاً مک کرسٹل نے کئی بار صدر کرزئی کے ساتھ جنوبی افغانستان کا دورہ کیا اور مقامی عمائدین اور سیاستدانوں سے ملے۔ یہ وہ وقت تھا جب نیٹو اورافغان فورسز نے طالبان کے خلاف جنگ تیز کر دی تھی۔

محمد اکرم کہتے ہیں کہ اس کا مطلب یہ ہوا کہ امریکی حکومت اورافغان حکومت دونوں اس آپریشن کو مثبت انداز سے ختم کرنا چاہتے ہیں اور کمیونٹی کو اس کام میں شریک کرنا چاہتے ہیں۔ محمد اکرم کا خیال ہے کہ اس وقت مک کرسٹل کو تبدیل کرنے کے فائدے کم ہیں اور نقصان زیادہ ہیں’’ اگر آپ ایسے کمانڈر کو تبدیل کرتے ہیں جس کے افغان حکومت کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں اور جس نے حکومت اور عوام کے درمیان رابطہ قائم کر دیا ہے تو اس کے منفی اثرات ہوں گے‘‘۔

محمد اکرام کہتےہیں کہ نئے فوجی کمانڈر کو ملک اور اس کے عوام کو سمجھنے میں کئی مہینے لگ جائیں گے جب کہ آ ج کل ایک ایک منٹ قیمتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ گرمیوں کے موسم میں عام طور سے افغانستان میں تشدد میں اضافہ ہو جاتا ہے اور اس سال ابھی صوبہ قندھار میں کارروائی شروع ہونی باقی ہے ۔ اس کے علاوہ ستمبر کے پارلیمانی انتخابات کی مہم بھی شروع ہونے والی ہے۔

XS
SM
MD
LG