رسائی کے لنکس

اتحادی افواج کے نئے کمانڈر کا افغان جنگ جیتنے کا عزم


امریکی جنرل ڈیوڈ پیٹریاس

امریکی جنرل ڈیوڈ پیٹریاس

امریکی جنرل ڈیوڈ پیٹریاس نے اتوار کے روز افغانستان میں تعینات تقریباً ایک لاکھ چالیس ہزار امریکی اور نیٹو افواج کی باضابطہ طور پر کمان سنبھال لی ہے اور اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ تمام اتحادی افغان جنگ جیتنے کے لیے لڑ رہے ہیں۔

اتحادی افواج کے ہیڈکواٹرز سے ملحقہ سر سبز میدان میں منقد کی گئی ایک تقریب میں کئی سو نیٹو اور افغان سول و فوجی اہلکاروں کی موجودگی میں جنرل پیٹریاس کو رسمی طور پر دو جھنڈے پیش کیے گئے جن میں سے ایک امریکہ اور دوسرا نیٹو کا تھا۔

اس موقع پر تقریر کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ بین الاقوامی افواج کو ایک مشکل جنگ کا سامنا ہے اور کئی سالوں کی لڑائی کے بعد ”ہم ایک نازک موڑ پر پہنچ چکے ہیں“۔ جنرل پیٹریاس نے ایک با ر پھر واضح کیا کہ ان کی تعیناتی افغانستان میں بین الاقوامی افواج کی قیادت کی تبدیلی ہے حکمت عملی کی نہیں۔

جنرل پیٹریاس کو گذشتہ ماہ سابق جنرل اسٹینلی میک کرسٹل کی برطرفی کے بعد افغانستان میں امریکی اور اتحادی افواج کا سربراہ مقرر کیا گیا تھا۔ میک کرسٹل کے خلاف کارروائی ان کے اوباما انتظامیہ کے حوالے سے نامناسب بیانات کے پیش نظر کی گئی تھی۔

تاہم امریکی اور نیٹو افواج کے نئے سربراہ نے طالبان کے خلاف جنگ میں میک کرسٹل کے کردار کو سراہتے ہو ئے کہا کہ ان کی نگرانی میں حاصل کی گئی کامیابیاں ان کی پیش بینی اور قائدانہ صلاحیت کی عکاسی کرتی ہیں۔

واضح رہے کہ 2001ء سے جاری جنگ میں اتحادی افواج کو کسی ایک ماہ میں سب سے زیادہ جانی نقصان کا سامنا اس سال جون میں کرنا پڑا ہے جب ان کے 102 فوجی، جن میں سے تقریباً نصف کا تعلق امریکہ سے ہے، ہلاک ہوئے ہیں۔

افغانستان کے دارالحکومت کابل میں گذشتہ ماہ منعقد کیے گئے امن جرگے میں ملک بھر سے آئے مندوبین نے معتدل طالبان عناصر سے مفاہمت پر اتفاق کا اظہار کیا تھا اور اس کے بعد صدر حامد کرزئی نے زیر حراست مشتبہ شدت پسندوں کے مقدمات کی از سر نو تفتیش کا حکم دیا تھا۔

ایک روز قبل کابل میں امریکی سفارت خانے میں امریکہ کے یوم آزادی کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جنرل پیٹریاس نے شدت پسندی کے خلاف جنگ میں کامیابی اور افغانستان میں استحکام کے لیے سول اور عسکری کوششوں میں ہم آہنگی ضرورت پر زور دیا تھا۔

XS
SM
MD
LG