رسائی کے لنکس

افغانستان کے سیاسی حل کے لیے سنجیدگی ضروری ہے: ملی بینڈ


افغانستان کے سیاسی حل کے لیے سنجیدگی ضروری ہے: ملی بینڈ

افغانستان کے سیاسی حل کے لیے سنجیدگی ضروری ہے: ملی بینڈ

برطانیہ کے سابق وزیر خارجہ ڈیوڈ ملی بینڈ کا کہنا ہے کہ اسامہ بن لادن کی ہلاکت، دہشت گردی کے خلاف امریکی صدر براک اوباما کے پختہ عزم کی نشاندی کرتی ہے۔ انہوں اپنی ویب سائٹ پر ایک بلاگ میں لکھا ہے کہ اس ہلاکت کے بعد یہ بحث ایک نیا رخ اختیار کرے گی کہ صدر اوباما کی انتظامیہ دہشت گردوں سے مذاکرات کی حامی ہے لیکن ساتھ ہی انہوں نے اپنے سب سے بڑے دشمن کو ہلاک بھی کر دیا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان پر اٹھنے والے سوالات کے حوالے سے ابھی بہت کچھ سامنے آئے گا۔ یہ بھی دیکھنا ہے کہ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کا اس پر کیا ردِ عمل ہو گا۔

ڈیوڈ ملی بینڈ نے حال ہی میں واشنگٹن کے ایک تھنک ٹینک کونسل آن فارن ریلیشنز میں افغانستان کی جنگ پر گفتگو کی جس میں انہوں نے کہا کہ افغانستان دہشت گردی کے خلاف جنگ کا سب سے بڑا محاذ ہے اور اسے 2002 سے 2006 تک نظر انداز کیا گیا ۔ اگر افغانستان سے توجہ ہٹائی نہ جاتی اور وہاں کے شہروں اور قصبوں میں سیاسی استحکام لانے کی کو شش کی جاتی تو حالات ایسے نہ ہوتے جیسے آج ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ مزید فوجی بھیجتے رہنے سے افغانستان کا مسئلہ حل نہیں کیا جا سکتا۔ افغانستان کا حل سیاسی راستے سے ہی نکالا جا سکتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ افغانستان کے سیاسی حل کے لیے سنجیدگی ظاہر کرنا ضروری ہے اور ایسا کیا جا سکتا ہے اگر اقوامِ متحدہ کی طرف سے ایک نمائندہ وہاں بھیج دیا جائے جو مذاکرات کی سربراہی کرے تاکہ طالبان سمیت دیگر افغان جنگجو تنظیموں کو یہ یقین ہو سکے کہ ہم مذاکرات کے لیے سنجدہ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان ایک ایسا ملک ہے جہاں کوئی بھی فیصلہ کرنے کے لیے افغان عوام، افغانستان کے ہمسایہ ممالک ، امریکہ اور عرب دنیا کو بھی شامل کرنا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ ہم صدر کرزائی کی نامزد کردہ کونسل پر انحصار نہیں کر سکتے کیونکہ خطے میں استحکام لانے کے لیے تمام پارٹیوں کو ایک میز پر آنا ہو گا اور حل تب تک نہیں ملے گا جب تک وہ ایک دوسرے کے سامنے بیٹھ کر بات نہیں کرتے۔

ڈیوڈ ملی بینڈ کہتے ہیں کہ افغانستان میں ایک مرکزی حکومت قائم کرنے کے لیے کچھ چیزوں پر سمجھوتہ کرنا پڑے گا۔ کیونکہ پورے افغانستان پر کبھی بھی مرکز سے حکومت نہیں کی گئی۔ اس لیے کچھ قبیلوں کے ساتھ ان کی شرائط کو سامنے رکھ کر مذاکرات کرنے ہوں گے۔

ملی بینڈ کے مطابق افغانستان میں استحکام لانے کے لیے پاکستان میں استحکام لانا ضروری ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ پاکستان کے اپنے مفادات ہونے چاہییں ۔ پاکستان کے مفادات جائز ہیں مگر اس کے کچھ عالمی فرائض بھی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو جنوبی ایشیاء میں امن اور استحکام لانے کی کوششوں کا حصہ ہونا چاہیے۔عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ پاکستان پر یہ واضع کرے کہ اس سے کیا توقعات وابسطہ ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کے مفادات کا احترام کیا جائے۔

عرب ممالک میں آنے والی تبدیلیوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے ڈیوڈ ملی بینڈ کا کہناتھاکہ ایک چیز ساری دنیا پر واضع ہو گئی ہے کہ ان ممالک میں حکومت کی تبدیلی کا مطالبہ کرنے والی تحریکیں ملک کے اندر سے اٹھی ہیں کسی دوسرے ملک سے نہیں بھیجی گئیں۔ لیبیا پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نیٹو کی دخل اندازی سے عام شہریوں کے قتلِ عام کا خطرہ تو ٹل گیا ہے لیکن دیکھنا یہ ہے کہ کیا دخل اندازی کے ناکام ہونے سے پہلے معمر قذافی کا اقتدار ختم ہو پائے گا۔ ان کے مطابق اس کے لیے قذافی پر زور بڑھانا چاہیے۔ جس کی ایک شکل قذافی کی فوج پر مزید حملے ہو سکتے ہیں تاکہ انہیں یہ احساس ہو کہ معمر قذافی ان کے لیے ایک بوجھ بن گئے ہیں۔

حماس اور الفتح کے درمیان ہونے والے معاہدے کے بارے میں ڈیوڈ ملی بینڈ نے کہا کہ یہ معاہدہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ فلسطینی لیڈشپ امن اور فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے مغرب کی کوششوں سے کس قدر ناامید ہے۔ ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہم مغربی کنارے پر مذاکرات کرتے ہیں لیکن غزہ پر نہیں ۔ ملی بینڈ نے کہا کہ اسلام اور مغرب کے درمیان فاصلوں کی سب سے بڑی وجہ فلسطین کا تنازعہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ چاہے وہ برطانیہ کی مساجد ہوں یا اسلامی دنیا کا کوئی بھی ملک ہر جگہ ان سے ایک ہی سوال پوچھا گیا کہ عالمی برادی فلسطین کا مسئلہ کیوں حل نہیں کرتی۔ ڈیوڈ ملی بینڈ نے کہا کہ مسئلہِ فلسطین گزشتہ 40 سالوں کی سب سے بڑی سیاسی ناکامی ہے۔

XS
SM
MD
LG