رسائی کے لنکس

امریکہ نے اکتوبر 2001ء میں، افغانستان میں طالبان کو اقتدار سے ہٹایا، جو القاعدہ کے جنگجوؤں کی سرپرستی کر رہے تھے، جو اُس سے ایک ہی ماہ قبل امریکہ پر دہشت گرد حملوں کے ذمہ دار تھے

افغانستان میں پیر کے دِن نیٹو نے اپنے ’کمبیٹ کمانڈ سینٹر‘ سے اپنا پرچم اتارنے کی رسم ادا کی، ایسے میں جب اتحاد طالبان اور القاعدہ کے خلاف 13 برس سے جاری اپنا مشن ختم کر رہا ہے۔

امریکہ نے اکتوبر 2001ء کو افغانستان میں طالبان کو اقتدار سے ہٹایا، جو القاعدہ کے جنگجوؤں کی سرپرستی کر رہے تھے، جو اُس سے ایک ماہ قبل امریکہ پر دہشت گرد حملوں کے ذمہ دار تھے۔

حالانکہ، نیٹو کی بین الاقوامی سلامتی کی اعانتی افواج (ایساف) نے اپنی مشترکہ کمان کی لڑاکا کارروائیاں بند کیں، طالبان نے بے دھڑک ہو کر ملک بھر میں اپنے حملے جاری رکھے۔


پیر کے دِن قندھار میں شدت پسندوں نے ایک پولیس تھانے پر حملہ کیا، جس میں کم از کم پانچ افراد ہلاک ہوئے۔

یہ حملہ اُن ’ہائی پروفائل‘ حملوں کے سلسلے کی ایک کڑی تھی، جو دارالحکومت کابل میں کیے گئے ہیں۔

جنرل جان کیمپ بیل نے پیر کے روز کہا ہے کہ رفتہ رفتہ افغان افواج اِس قابل ہوتی جارہی ہیں کہ وہ اپنے ملک کی حفاظت کر سکیں۔

لیکن، 2014ء کے بعد بھی امریکہ افغانستان میں تقریباً 11000 فوج تعینات رکھے گا، جب کہ متعدد دیگر اتحادی حکومتیں بھی اپنی فوجیں وہاں تعینات رکھیں گی۔

’ایسو سی ایٹڈ پریس‘ کے اعداد و شمار کے مطابق، سنہ 2001 میں افغانستان کی فتح کے بعد سے اب تک، 3500 غیر ملکی فوجی ہلاک ہوچکے ہیں، جن میں زیادہ تعداد امریکیوں کی ہے۔

اِس سلسلے میں، افغان فوج کے زیادہ اہل کار ہلاک ہوئے۔ صرف گذشتہ دو برس کے دوران، اُن کی کُل تعداد 10000 کے قریب ہے۔

سبک دوش ہونے والے امریکی وزیر دفاع، چَک ہیگل نے اتوار کو افغانستان کا دورہ کیا، جہاں امریکی فوجوں سے خطاب کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ اُنھیں ابھی بہت سے چیلنجوں کا سامنا رہے گا۔

تاہم، اُنھوں نے کہا کہ امریکہ ہرگز یہ نہیں چاہتا کہ گذشتہ 13 برس کے دوران حاصل کی گئی بے انتہا پیش رفت ضائع ہو۔

XS
SM
MD
LG