رسائی کے لنکس

افغانستان: قندھار میں طالبان کے خلاف بڑی مہم کاآغاز


افغانستان مین نیٹو افواج

افغانستان مین نیٹو افواج

افغان اور نیٹو فورسز طالبان عسکریت پسندوں کو جنوبی شہر قندھار کے اردگرد واقع اپنے مضبوط ٹھانوں سے نکالنے کے لیے ایک نئی مہم شروع کررہے ہیں۔

عہدے داروں کا کہناہےکہ کئی ہفتوں تک جاری رہنے والی آپریشن ڈریگن نامی کارروائی طالبان کے خلاف فضائی اور زمینی حملوں پر مشتمل ہے ۔

نیٹو کے ایک ترجمان ، جرمنی کے بریگیڈیر جنرل جوزف بلوٹز کا کہنا ہے کہ افغان اور اتحادی افواج آنے والے دنوں میں سخت لڑائیوں کی توقع کررہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا اس کارروائی کا مقصد قندھار کے اردگرد واقع طالبان کے ٹھکانوں کو تباہ کرنا اور عسکریت پسندوں کو علاقہ چھوڑنے یا لڑنے اور مرنے پر مجبور کرنا ہے۔

حالیہ دنوں میں شروع ہونے والے اس فوجی آپریشن میں ابھی تک افغان یا نیٹو فورسز کے کسی اہل کار کے ہلاک ہونے کی اطلاع نہیں ملی ۔ لیکن اس ماہ قندھار صوبے میں دوسرے واقعات میں سات امریکی فوجی مارے جا چکے ہیں۔

کابل کو ملک پر اپنی حاکمیت کا دائرہ بڑھانے میں مدد کے لیے جنوبی علاقے کو عسکریت پسندوں سے صاف کرنا امریکی قیادت کی افواج کی حکمت عملی کا ایک اہم حصہ ہے۔

دوسری خبروں کے مطابق پیر کے روز مشرقی صوبے غزنی میں سڑک کنارے ایک بم دھماکے میں پولینڈ کا ایک فوجی ہلاک ہوگیا۔

پیر ہی کے روز برطانیہ نے ہفتے کوہونے والے ایک بم دھماکے ہلاک ہونے والے نیٹو کے تین اہل کاروں میں سے ایک کو برطانوی فوجی کے طور پر شناخت کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے فوجی کی ہلاکت صوبے ہلمند میں ان کی گاڑی سڑک کنارے نصب ایک بم کے ساتھ ٹکرانے سے ہوئی۔

افغان حکام ایک برطانوی امدادی کارکن اور اس کے تین افغان ساتھیوں کو تلاش کررہے ہیں جنہیں مشرقی صوبے کنٹر میں طالبان نے اغوا کرلیاتھا۔

XS
SM
MD
LG