رسائی کے لنکس

افغانستان: پوست کی فصل پر بیماری کا حملہ، پیدوار نصف

  • سیلاح ہینسی

پوست کی فصل

پوست کی فصل

منشیات پر کنٹرول سے متعلق اقوام متحدہ کے ادارے نے کہا ہے کہ افغانستان میں اس سال پوست کی پیدوار کم ہوکر تقریباً نصف رہ گئی ہے مگراس کی زیادہ تر وجہ فصل کو لگنے والی بیماری ہے، جب کہ مجموعی طورپر زیر کاشت رقبہ اتنا ہی ہے۔

افغانستان میں پوست کی کاشت کے 2010ء کے سروے میں کہا گیا ہے کہ پیدوار میں کمی کی وجہ پوست کے پودوں کو لگنے والی ایک بیماری تھی جس سے فصل تباہ ہوگئی ، خاص طورپر قندھار اور ہلمند کے علاقوں میں، جہاں سے زیادہ تر پوست حاصل ہوتی ہے۔

سروے سے معلوم ہوا ہے کہ پوست کا زیر کاشت رقبے میں کوئی کمی نہیں آئی اور وہ تقریباً پچھلے سال کے برابر تھا۔

منشیات اور جرائم سے متعلق اقوام متحدہ کے ادارے کے شعبہ اعدادوشمار کی سربراہ اینجلا می کا کہنا ہے کہ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ پوست کی کاشت کو روکنے کی کوششیں ناکام ہورہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ گندم کے بیج کی تقسیم جیسی پالیسیوں سے فرق پڑسکتا ہے اور افغانستان کے کچھ حصوں میں پوست کی کاشت کم ہوئی ہے۔

ان کا کہناتھا کہ ایسے صوبوں میں جہاں پچھلے سال بڑے پیمانے پر پوست کاشت کی گئی تھی، اور جہاں بڑے پیمانے پر فصل کو بیماری لگی ہے، ایسا دکھائی دتیاہے کہ وہاں کچھ ہورہاہے۔

پچھلے سال کے سروے میں جن 20 صوبوں کی پوست سے آزاد علاقوں کے طورپر نشان دہی کی گئی ، اس سال بھی وہاں پوست کاشت نہیں کی گئی اور چار دوسرے صوبے بھی پوست سے تقریباً آزاد ہیں۔ جب کہ ہلمند میں اس کی پیداوار سات فی صد تک کم ہوئی ہے۔

لیکن کئی دوسرے علاقوں میں زیر کاشت رقبہ بڑھا ہے۔ قندھار میں یہ اضافہ 30 فی صد تک ہے۔

افغانستان میں زیادہ تر پوست ملک کے جنوبی اور مغربی صوبوں ہلمند اور قندھار میں کاشت کی جاتی ہے ، جو طالبان شورش کا گڑھ ہیں۔

اینجلا می کہتی ہیں کہ ہم ان علاقوں میں پوست کی کاشت میں اضافہ دیکھ رہے ہیں جہاں کا اہم مسئلہ شورش ہے اور اسی طرح ہم یہ بھی دیکھ رہے ہیں کہ پوست کی کاشت ابھی تک سیکیورٹی کے معاملے سے منسلک ہے اور ان علاقوں میں اس کی کاشت نمایاں طورپر زیادہ ہے جہاں حکومت کی رسائی کم ہے۔

خیال کیا جاتا ہے کہ طالبان اپنے لیے زیادہ تر سرمایہ افیون کی پیداوار سے حاصل کرتے ہیں۔

مے کہتی ہیں کہ اگرچہ بیماری سے پوست کے زیادہ تر پودے ختم ہوگئے ہیں، لیکن ان کا منافع کم نہیں ہوا۔

2005ء اور 2009 کے درمیان افیون کی قیمت کم ہوئی تھی ، لیکن 2010ء میں کھیت کی سطح پر افیون کی قیمت میں 2009ء کے مقابلے میں 150 فی صد تک اضافہ ہوا۔

می کہتی ہیں کہ اگرچہ پیداوار کم ہوئی ہے، لیکن کھیت کی سطح پر اس کی قیمت بڑھی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ شورش پسندوں کو ملنے والی رقم میں بھی اضافہ ہواہے۔

اینجلا می کا کہنا ہے کہ افیون کی قیمت میں اضافے کے نتیجے میں کئی کاشت کار دوبارہ پوست کی کاشت شروع کرسکتے ہیں۔

دنیا میں افیون کی کل پیداوار کا 90 فی صد افغانستان سے حاصل ہوتا ہے جسے ہیروئن بنانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ جب کہ50 فی صد پوست صوبے ہلمند میں کاشت کی جاتی ہے۔

XS
SM
MD
LG