رسائی کے لنکس

شمالی افغانستان میں پوست کی کاشت میں اضافے کا خدشہ

  • یاسر منصوری

شمالی افغانستان میں پوست کی کاشت میں اضافے کا خدشہ

شمالی افغانستان میں پوست کی کاشت میں اضافے کا خدشہ

اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ رواں سال افغانستان کے شمالی اور شمال مشرقی حصوں میں پوست کی کاشت میں نمایاں اضافے کا خدشہ ہے۔

عالمی تنظیم کے منشیات اور جرائم سے متعلق ادارے ”یو این او ڈی سی“ نے پیر کو جاری کی گئی اپنی جائزہ رپورٹ میں جن صوبوں میں افیون کی پیداوار میں اضافے کی پیش گوئی کی ہے اُن میں بدخشاں، بغلان اور فریاب سر فہرست ہیں۔

کابل میں رپورٹ کے اجراء کے موقع پر افغانستان میں یو این او ڈی سی کے سربراہ جان لُک لمایو (Jean-Luc Lemahieu) نے افیون کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کو پوست کی کاشت میں اضافے کی بنیادی وجہ قراردیا۔

فروری 2010ء اور فروری 2011ء کے درمیان خام اور تیار شدہ افیون کی قیمتوں میں بالترتیب تقریباً اڑھائی سو اور تین سو فیصد اضافہ ہوا ہے۔تاہم یو این او ڈی سی کے عہدے دار کا کہنا تھا کہ رواں سال مجموعی طور پر افغانستان میں پوست کی کاشت میں معمولی کمی کا امکان ہے کیونکہ ملک کے جنوبی صوبوں خصوصاً ہلمند اور قندھار میں اس فصل کی کاشت میں کمی دیکھی گئی ہے۔

”ہم پوست کی کاشت میں کمی کی توقع کر رہے ہیں جس میں سرکاری سطح پر موثر اقدامات کے ذریعے مزید تیزی لائی جا سکتی ہے۔“ اقوام متحدہ کے عہدے دار نے پوست کی کاشت کے خلاف افغان حکومت کی طرف سے اب تک کیے گئے اقدامات کو بھی سراہا۔

اُنھوں نے بتایا کہ ہلمند میں گذشتہ تین سالوں کے دوران تسلسل سے پوست کی کاشت میں کمی کا رجحان سامنے آیا ہے ۔ اس جنوبی صوبے میں 2008ء کے دوران اڑھائی لاکھ ایکڑ سے زائد رقبے پر پوست کاشت کی گئی تھی لیکن 2010ء میں یہ رقبہ کم ہو کر لگ بھگ ایک لاکھ 60 ہزار تک محدود ہو کر رہ گیا۔

لیکن جان لُک لمایو نے واضح کیا کہ تازہ رپورٹ میں محض پیش گوئی کی گئی ہے اور اصل صورت حال کا اندازہ رواں سال کے اواخر میں سیٹیلائٹ سے حاصل کی گئی تصاویر کی مدد سے لگایا جائے گا۔

پوست اور افیون کی فروخت سے حاصل ہونے والی آمدن کے کچھ حصے سے افغانستان میں سرگرم طالبان بھی فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

XS
SM
MD
LG