رسائی کے لنکس

افغانستان اور پاکستان میں سُراغ رسانی کے لیے ٹھیکہ


فائل فوٹو

فائل فوٹو

امریکہ کے محکمہ دفاع نے کہا ہے کہ وہ ذرائع ابلاغ کی ان اطلاعات کا جائزہ لے رہا ہے کہ پینٹے گان کے کسی عہدے دار نے افغانستان اور پاکستان میں مشتبہ باغیوں کا سراغ لگانے اور انہیں ہلاک کرنے کے لیےنجی شعبے کے ٹھیکے داروں کی خدمات حاصل کی تھیں، جو کہ ممکنہ طور پر امریکی قانون کی خلاف ورزی تھی۔

اخبار نیو یارک ٹائمز نے اتوار کو دئے اطلاع دی تھی کہ امریکی مسلح افواج اور انٹیلی جینس کے عہدے داروں کا کہنا ہے کہ سُراغ رسانی کے ٹھیکے، سیکیورٹی کی اُن نجی کمپنیوں سے وابستہ افراد کو دیے گئے تھے ، جن کے بارے میں یہ معلوم تھا کہ وہ سی آئى اے اور امریکی فوج کے خصوصی دستے کے سابق ارکان کو مُلازم رکھتی رہی ہیں۔

اِن ٹھیکے داروں کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ پاکستان اور افغانستان میں جنگجوؤں کے لیڈروں اور تربیتی کیمپوں کا اتا پتا معلوم کرنے کے لیے مُخبروں سے کام لیتے تھے اور وہ انٹیلی جینس، ممکنہ ہلاکت خیز کارروائى کے لیے امریکی کمانڈروں کو فراہم کردی جاتی تھی۔

سی آئى اے اور مسلح افواج ،انٹیلی جینس کے حصول کے لیے باقاعدگی کے ساتھ خفیہ کارروائیاں کرتی ہیں۔ لیکن فوج کے لیے اس بات کو عام طور پر خلافِ قانون سمجھا جاتا ہے کہ وہ درپردہ جاسوسی کے لیے نجی ٹھیکے داروں کو استعمال کرے۔

پیر کے روز محکمہ دفاع کے ترجمان برائین وِہٹ مین نے کہا ہے کہ اخباری رپورٹ میں کچھ سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں اور ایسے سوال اُٹھائے گئے ہیں جو اس بات کاتقاضا کرتے ہیں کہ محکمہ دفاع اس معاملے کی مزید چھان بین کرے۔

ترجمان نے ذرائع ابلاغ کی ان اطلاعات کی تصدیق کرنے سے انکار کردیا کہ عہدے داروں پہلے ہی اس معاملے کی چھان بین شروع کردی ہے۔

اخبار نے نام ظاہر کیے بغیر عہدے داروں کے حوالے سے کہا ہے کہ سی آئى اے کے عہدے داروں نے پچھلے سال محکمہ دفاع میں انٹیلی جینس کے سینئر عہدے داروں سے مائیکل فرلونگ کے زیرِ قیادت خفیہ کارروائیوں کے دوران مبّیہ طور پر ” سنگین خلاف ورزیوں“ کی شکایت کی تھی۔فرلونگ ، محکمہ دفاع کا ایک سِولیّن ملازم تھا ، جو اُس وقت امریکہ کی جنگی حکمت عملی کی کمان سے وابستہ تھا۔

نیویارک ٹائمز کا کہنا ہے کہ فرلونگ نے انٹیلی جینس کا جو نیٹ ورک قائم کیا تھااُس کا انحصار مُخبروں کے ایک نیٹ ورک پر تھا۔ اور مخبروں سے کام لینے لیے ہوسکتا ہے کہ اُس فنڈ ز کی رقم استعمال کی گئى ہو ، جو افغانستان میں سیاسی، معاشرتی اور قبائیلی مسائل سے متعلق اطلاعات جمع کرنے کے لیے مخصوص تھا۔

اخبار نے اپنی رپورٹ میں جن ذرائع کا حوالہ دیا ہے ، اُن کا کہنا ہے کہ ایسا دکھائى دیتا ہے کہ ٹھیکے پر کام کرنے والے سراغ رساں نیٹ ورک کو ختم کردیا گیا ہے۔

XS
SM
MD
LG