رسائی کے لنکس

’ٹرمپ انتخابی مہم کی ویب سائٹ پر پاکستان کا ذکر نہیں‘


طورخم

طورخم

باوجود یہ کہ افغانستان میں اب بھی تقریباً 10000 امریکی فوجی تعینات ہیں، ٹرمپ کی انتخابی مہم کے دوران ملک کا شاید ہی کوئی خاص ذکر سنا گیا۔ اہمیت کے حامل امور خارجہ کے معاملات میں، ٹرمپ انتخابی مہم کی ویب سائٹ پر افغانستان یا پاکستان کے بارے میں کوئی ذکر موجود نہیں

ایسے میں جب پاکستان اور افغانستان کے سیاسی اور سلامتی سے متعلق ماہرین امریکی صدر کے طور پر ڈونالڈ ٹرمپ کی جیت کا تجزیہ کر رہے ہیں، اُنھوں نے تسلیم کیا کہ اُنھیں کم ہی پتا ہے کہ قیادت میں تبدیلی کے نتیجے میں امریکہ اور اِن ملکوں کے مابین مستقبل کے تعلقات میں کیا فرق پڑ سکتا ہے۔

ہارون میر کابل میں سیاسی تجزیہ کار ہیں۔ بقول اُن کے ''ہم اِس بات کے منتظر ہیں کہ وہ کیا تبدیلیاں لائیں گے''۔

باوجود یہ کہ افغانستان میں اب بھی تقریباً 10000 امریکی فوجی تعینات ہیں، ٹرمپ کی انتخابی مہم کے دوران ملک کا شاید ہی کوئی خاص ذکر سنا گیا۔

اہمیت کے حامل امور خارجہ کے معاملات میں، ٹرمپ انتخابی مہم کی ویب سائٹ پر افغانستان یا پاکستان کے بارے میں کوئی ذکر موجود نہیں ہے۔

رفعت حسین کا اسلام آباد سے تعلق ہے، وہ ایک سیاسی ماہر ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ''میں صرف اتنا کہہ سکتا ہوں کہ خطے میں اُن کی پالیسی کے بارے میں غیر یقینی ہونے کا عنصر پایا جاتا ہے''۔

اُنھوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں ٹرمپ کی دلچسپی افغانستان سے دلچسپی پر منحصر ہوسکتی ہے۔

بقول اُن کے، ''اگر وہ پینٹاگان سے اتفاق کرتے ہیں کہ افغانستان میں اندازاً 12000 فوجی تعینات رہیں، تو پھر اِس کے نتیجے میں، پاکستان کے ساتھ اُن کی دلچسپی بھی بڑھ سکتی ہے''۔

سید مشاہد حسین، پاکستانی سیاست داں ہیں، جنھوں نے حال ہی میں کشمیر پر وزیر اعظم کے خصوصی ایلچی کے طور پر امریکہ کا دورہ کیا، جو ایک متنازع علاقہ ہے اور بھارت اور پاکستان کے درمیان کئی جنگوں کا باعث بن چکا ہے۔ اُنھوں نے کہا ہے کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ پاکستان اس معاملے پر بڑھ چڑھ کر بات کرے۔

حسین نے کہا کہ ''اُن دنوں جب نئے منخب صدر اپنا عہدہ سنبھالیں، مسٹر ٹرمپ کی ٹیم اور دیگر تھنک ٹینکس سے ملاقات کی غرض سے پاکستان کو اپنے خصوصی ایلچی امریکہ بھیجنے چاہئیں، تاکہ خطے میں مختلف مسائل کے حوالے سے ملک کے موقف کو سمجھنے میں مدد مل سکے''۔

افغان پُرامید ہیں کہ جب تک اُن کا ملک مستحکم نہیں ہوجاتا، واشنگٹن میں دونوں پارٹیوں کے اندر اس بات پر اتفاقِ رائے ہے کہ ملک کو اکیلا نہیں چھوڑا جائے گا۔ اِس سال وارسا اور برسلز میں افغانستان پر نیٹو کے سربراہ اجلاسوں کے دوران، اُنھوں نے اس بات کی نشاندہی کی تھی، جن میں اگلے چار برسوں کے دوران فوجی اور مالیاتی اعانت پر بین الاقوامی برادری کی حمایت حاصل کرنے میں کامیابی ہوئی۔

تاہم، میر نے کہا کہ ابھی یہ واضح نہیں کہ صدر کے طور پر ٹرمپ افغان سیاسی قیادت سے کس طرح پیش آئیں گے۔

XS
SM
MD
LG