رسائی کے لنکس

افغان پارلیمنٹ نے وزیر دفاع کے لیے دوسری نامزدگی بھی مسترد کر دی


فائل فوٹو

فائل فوٹو

نامزد وزیر دفاع محمد معصوم استنکزئی کو 231 ووٹوں میں سے 84 ووٹ ملے جب کہ اس نامزدگی کی پارلیمنٹ سے توثیق کے لیے انھیں 107 ووٹ درکار تھے۔

افغانستان کی پارلیمنٹ نے وزیر دفاع کے لیے دوسری نامزدگی کو بھی مسترد کر دیا ہے اور یوں تقریباً نو ماہ سے خالی اس عہدے کو پر کرنے کے لیے مزید وقت لگ سکتا ہے۔

گزشتہ سال ستمبر میں منصب صدارت سنبھالنے کے بعد سے اشرف غنی ابھی تک اپنی پوری کابینہ نامزد نہیں کر سکے ہیں اور ہفتے کو ہونے والی رائے شماری کو ان کی حکومت کی پارلیمنٹ پر گرفت کے امتحان کے طور پر دیکھا گیا۔

نامزد وزیر دفاع محمد معصوم استنکزئی کو 231 ووٹوں میں سے 84 ووٹ ملے جب کہ اس نامزدگی کی پارلیمنٹ سے توثیق کے لیے انھیں 107 ووٹ درکار تھے۔

ایک ایسے وقت جب افغان فوج کی تاحال سیاسی قیادت کا فیصلہ نہیں ہو سکا ہے طالبان عسکریت پسندوں نے کابل سے صرف پچاس کلومیٹر مغرب میں واقع وردک صوبے میں سرکاری چوکیوں پر قبضہ کرنے کے لیے اپنی کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔

صوبائی گورنر کے دفتر سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا کہ دو روز سے ہونے والی لڑائی میں کم ازکم 24 پولیس اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں اور جھڑپیں اب بھی جاری ہیں۔

ملک میں سلامی کی دگر گوں ہوتی صورتحال کی ذمہ داری اکثر ناقدین یہ کہہ کر حکومت پر عائد کرتے ہیں کہ اہم سکیورٹی عہدوں پر حکومتی دھڑوں میں عدم اتفاق ہے۔

گزشتہ سال کے اواخر میں جنگ سے تباہ حال افغانستان سے تمام بین الاقوامی فوجیں اپنے وطن واپس جا چکی ہیں اور ایک سکیورٹی معاہدے کے تحت محدود تعداد میں بین الاقوامی فوجی یہاں موجود ہیں جو مقامی فورسز کی تربیت اور انسداد دہشت گردی میں معاونت فراہم کر رہے ہیں، ان میں اکثریت امریکی فوجیوں کی ہے۔ لیکن ملک میں سلامتی کی تمام ذمہ داری اب افغان سکیورٹی فورسز کے پاس ہے۔

اسی دوران امریکہ کے سینیٹر جان مکین ہفتہ کو کابل پہنچے جہاں انھوں نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ طالبان کے حملوں میں اضافہ ہوا اور امریکی فوجیوں کو طے شدہ منصوبے سے زیادہ وقت کے لیے یہاں تعینات رہنا چاہیے تاکہ وہ عسکریت پسندوں کو اپنی قوت بڑھانے سے روک سکیں۔

XS
SM
MD
LG