رسائی کے لنکس

افغانستان کا غیر یقینی سیاسی مستقبل

  • گیری تھامس

(فائل فوٹو)

(فائل فوٹو)

امریکہ نے بار بار کہا ہے کہ وہ ایسے امن کا حامی ہے جس میں افغان نمایاں کردار ادا کریں۔ سی آئے اے کے سابق افسر بروس ریڈل جنھوں نے 2009ء میں اوباما انتظامیہ کی طرف سے افغانستان کی پالیسی کے جائزے کی صدارت کی تھی، کہتے ہیں کہ اس تنازعے کے سیاسی حل کی حمایت کرنے میں امریکہ کا کوئی نقصان نہیں ہے۔

افغانستان میں جنگ اب بھی ہو رہی ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ امریکہ اور طالبان کے نمائندوں کے درمیان ابتدائی بات چیت بھی جاری ہے لیکن اس بات چیت کو امن مذاکرات کا نام نہیں دیا جا سکتا۔ افغانستان کا مستقبل اور سیاسی منظر اب بھی بہت زیادہ غیر یقینی ہے۔

اطلاعات کے مطابق، اس بات چیت میں بیشتر توجہ ان طالبان کی رہائی پر دی گئی ہے جو امریکہ کی تحویل میں ہیں۔ لیکن جیسے جیسے 2014ء کا سال قریب آ رہا ہے، جب امریکہ کے لڑاکا فوجی افغانستان سے واپس چلے جائیں گے، سب کو اس تنازعے کے سیاسی حل کی فکر پڑ گئی ہے۔

امریکہ نے بار بار کہا ہے کہ وہ ایسے امن کا حامی ہے جس میں افغان نمایاں کردار ادا کریں۔ سی آئے اے کے سابق افسر بروس ریڈل جنھوں نے 2009ء میں اوباما انتظامیہ کی طرف سے افغانستان کی پالیسی کے جائزے کی صدارت کی تھی، کہتے ہیں کہ اس تنازعے کے سیاسی حل کی حمایت کرنے میں امریکہ کا کوئی نقصان نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’’ہماری طرف سے سیاسی حل کی مخالفت نہیں ہونی چاہیئے۔ اگر کوئی قابل ِ عمل سیاسی حل نہیں نکلتا، تو اس کی وجہ ہماری مخالفت نہیں ہونی چاہیئے۔ ہمیں یہ ضرور دیکھنا چاہیئے کہ آیا کرزئی حکومت اور طالبان کی بغاوت کے درمیان سیاسی حل کی کوئی گنجائش نکل سکتی ہے یا نہیں۔‘‘

لیکن ریڈل کہتے ہیں کہ طالبان اور صدر حامد کرزئی کی حکومت کے درمیان مصالحت کے امکانات بہت کم ہیں۔ طالبان، کرزئی انتظامیہ کو امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی ناجائز تخلیق سمجھتے ہیں۔ افغانستان میں یورپی یونین کے سابق خصوصی مندوب، فرانسسک وینڈرل کہتے ہیں کہ ’’وہ کرزئی کے ساتھ مذاکرات کرنا نہیں چاہتے۔ انہیں اس خواہش کی تکمیل میں خود کرزئی سے مدد مل رہی ہے کیوں کہ کرزئی ہر اس چیز کو سبو تاژ کر رہے ہیں جو امریکی کرنا چاہتے ہیں۔ دونوں حکومتوں کے درمیان دوڑ لگی ہوئی ہے کہ طالبان سے کون پہلے بات کرے گا۔ طالبان اس صورتِ حال سے لطف اندوز ہو رہے ہوں گے اور بہت خوش ہوں گے۔‘‘

اگر صحیح معنوں میں امن مذاکرات شروع ہو جاتے ہیں، تو فریقین کی توقعات کیا ہوں گی؟

تنازعات کے حل کے ایک پرائیویٹ گروپ سوئس پیس کے تجزیہ کار ، کاہن دی نیٹز کہتے ہیں کہ طالبان چاہتے ہیں کہ تمام غیر ملکی فوجیں افغانستان سے چلی جائیں، اور امریکہ اور نیٹو ،اپنی فورسز کو باہر نکالنے کے محفوظ طریقے کی تلاش میں ہیں۔ ان کے مطابق ’’میرے خیال میں، ان امن مذاکرات کا ایک بڑا مقصد یہ ہے کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ باغی واپس جانے والی فوجوں پر حملے نہ کریں۔ قطر میں حال ہی میں جو آفس کھلا ہے، اس کا مقصد یہی ہے کہ فوجوں کی واپسی منظم طریقے سے ہو جائے اور باغیوں کے گروپ ان پر حملہ آور نہ ہوں۔

ناٹر ڈیم یونیورسٹی کے ڈیوڈ کاٹ رائٹ کہتے ہیں کہ یہ مذاکرات کا نقطۂ آغاز ہو سکتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’’ہم نے کہا ہے کہ ہم جنگی کارروائیاں ختم کر دیں گے۔ تو پھر اس چیز کو مذاکرات کا حصہ کیوں نہ بنایا جائے۔ ہم طالبان کے نمائندوں کو، جن کے ساتھ ہم نے بات چیت شروع کر دی ہے، یہ پیشکش کر سکتےہیں کہ ہم ڈرون حملے، گھروں پر چھاپے، جنگی کارروائیاں، سب بند کر دیں گے، اگر آپ بھی ایسا ہی کریں۔ اور پھر ہم ان کے ساتھ بیٹھ کر یہ طے کر سکتے ہیں کہ کس قسم کی مخلوط حکومت اور اختیارات کی تقسیم کا کس قسم کا انتظام کافی ہوگا جس سے تمام فریق مطمئن ہو جائیں اور تمام تشدد ختم کر دیں۔‘‘

لیکن اس معاملے کا سیاسی پہلو واضح نہیں ہے۔ کیا جنگ کے خاتمے کے بعد، طالبان افغانستان میں اختیارات کی تقسیم کے کسی انتظام میں شامل ہونا چاہتے ہیں؟ کرزئی سے انہیں جو شدید نفرت ہے، اس کی روشنی میں بہت سے تجزیہ کار سمجھتے ہیں کہ طالبان ان کے ساتھ مخلوط حکومت میں شامل ہونے سے کترائیں گے۔

یورپی یونین کے سابق مندوب فرانسسک وینڈرل جو صدر کرزئی کو اچھی طرح جانتے ہیں، کہتے ہیں کہ صدر کرزئی نے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے لیے خود کو مشکل شراکت دار ثابت کیا ہے جو اکثر تعاون نہیں کرتا ۔ وینڈرل کہتے ہیں کہ انہیں اس پر مطلق حیرت نہیں ہو گی اگر امریکہ کا صبر کا پیمانہ لبریز ہو جائے، بلکہ لبریز ہو چکا ہو، اور وہ فوجوں کی واپسی کے لیے الگ سے کوئی انتظام کر لے۔ ان کے مطابق ’’کرزئی نے کوئی کام ڈھنگ سے نہیں کیا ہے۔ ان کے پاس کوئی مناسب مذاکراتی ٹیم نہیں ہے۔ شمالی اتحاد کے ساتھ، اور کابل میں سیاسی طور پر اہم لوگوں کے ساتھ، ان کا کسی قسم کا اتفاقِ رائے یا مفاہمت نہیں ہوئی ہے۔ لہٰذا اگر امریکی بالآخر طالبان کے ساتھ کوئی سمجھوتہ کر لیتے ہیں، جیسا کہ سوویت یونین نے 1989ء میں کیا تھا، یا امریکیوں نے 1973ء میں جنوبی ویتنام کی حکومت کو نظر انداز کرتے ہوئے شمالی ویتنام کے ساتھ کر لیا تھا، تو مجھے اس پر حیرت نہیں ہو گی۔‘‘

لیکن ڈیوڈ کاٹ رائٹ کہتےہیں کہ امن کے کسی بھی عمل سے، ہمسایہ ملک پاکستان کو الگ نہیں رکھا جا سکتا۔ یہی وہ ملک ہے جہاں طالبان پناہ لیتے رہے ہیں۔ دوسرے تجزیہ کاروں اور مغربی عہدے داروں کی رائے سے اتفاق کرتے ہوئے، وہ کہتے ہیں کہ پاکستان کی فوج اور انٹیلی جنس سروسز نے طالبان کی حمایت کی ہے تا کہ افغانستان میں ان کا اسٹریٹجک اثر و رسوخ قائم رہے۔ کاٹ رائٹ کا کہنا ہے کہ ’’ہمیں یہ بات کتنی ہی نا پسند کیوں نہ ہو، حقیقت یہ ہے کہ برسوں سے پاکستانی طالبان کو پیسہ دیتے رہے ہیں اور انہیں کنٹرول کرتے رہے ہیں۔ یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے۔ ہر کوئی یہ بات جانتا ہے۔ اگر انہیں اس میں شامل نہ کیا گیا، تو وہ امن کے عمل کو مسلسل نقصان پہنچاتے رہیں گے۔ وہ پہلے کئی بار ایسا کر چکے ہیں۔ امریکیوں یا کرزئی سے جو لوگ مذاکرات کے لیے آئے تھے، وہ انہیں گرفتار کر چکے ہیں۔ وہ اس عمل کا حصہ بننا چاہتے ہیں۔ اور اگر ہم جنگ کو ختم کرنا چاہتےہیں، تو ہمیں کسی نہ کسی طرح انہیں شامل کرنا ہوگا۔‘‘

تجزیہ کاروں نے انتباہ کیا ہے کہ ایسے جامع سیاسی سمجھوتے کے بغیر جس سے تمام فریق مطمئن ہوں، افغانستان میں پھر اسی قسم کی خانہ جنگی شروع ہو سکتی ہے جس نے 1990ء کی دہائی میں پور ے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔

XS
SM
MD
LG