رسائی کے لنکس

صدر اوباما کو اپنی افغان پالیسی پر قدامت پسندوں کی مخالفت کا سامنا

  • آمنہ خان

صدر اوباما کو اپنی افغان پالیسی پر قدامت پسندوں کی مخالفت کا سامنا

صدر اوباما کو اپنی افغان پالیسی پر قدامت پسندوں کی مخالفت کا سامنا

صدر اوباما نے اپنے حالیہ مختصر دورے میں، جس کا پہلے سے اعلان نہیں کیا گیا تھا، امریکی فوج کے عہدےد اروں اور صدر حامد کرزئی سے ملاقات کی اوران پر کرپشن کے خاتمے اور گڈگورنس کے لیے اقدامات کرنے پر زور دیا۔ امریکی حکومت جہاں ایک طرف جہاں اپنی افغان حکمت عملی پر عمل درآمد کے لیے کوششیں کررہی ہے ۔ وہیں دوسری جانب اسےاپنے منصوبوں پرقدامت پسند گروپو کی جانب سے تنقید کا بھی سامنا ہے۔

امریکہ کی قدامت پسند پارٹی کے بعض اراکین افغانستان میں امن و امان قائم کرنے اور سیاسی نظام مستحکم کرنے کے بہترین طریقہ کار پر بحث کر رہے ہیں۔ لیکن conservative battle onlineنامی رسالے کے ایڈیٹر ڈونلڈ ڈیویلین افغانستان سے امریکی فوج کی واپسی کے حق میں ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ امریکہ کو افغانستان کے اندرونی حالات میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔

وہ کہتے ہیں کہ میں سمجھتاہوں کہ افغانستان سے امریکی فوج واپس بلانے کا فیصلہ سیاسی طور پر درست ہے۔ میرے خیال میں افغان اب اس مقام پر پہنچ گئے ہیں کہ وہ اپنے ملک کی باگ ڈور سنبھال سکیں۔

افغانستان میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے انتہاپسندوں کا مقابلہ کرنے کے بجائے انہوں نے ایک ٕمختلف حکمت عملی تجویز کی۔

وہ کہتے ہیں کہ ہمیں دنیا بھر میں صورت حال پر نظر رکھنی چاہیے اور اس صورت حال کو سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اگر کہیں ہمیں کو ئی خطرہ نظرآئے، تو ضرور اس کا مقابلہ کرنا چاہیے۔ لیکن کسی ملک پر قبضہ کرنا، اوراسے بدلنے کی کوشش کرنا اس لیے غلط ہے کیونکہ ممالک کے اندرونی حالات بہت پیچیدہ ہوتے ہیں۔

Washington Examinerنامی اخبار کے ساتھ منسلک ماہر ڈائیانا ویسٹ نے افغانستان کے اندرونی حالات کی پیچیدگیوں کی طرف اشارہ تو نہیں کیا، لیکن وہ سمجھتی ہیں کہ افغانستان میں امریکی فوج کی موجودگی دفاعی حکمت عملی کے لحاظ سے کارآمد ثابت نہیں ہو گی۔ اس کے بجائے انہوں نے امریکی بحریہ کی مدد سے افغانستان میں انتہاپسندوں کے خلاف ہوائی حملے کرنے کی حکمت عملی تجویز کی۔

وہ کہتی ہیں کہ میں سمجھتی ہوں کہ یہ حکمت عملی اس لیے زیادہ کامیاب ہو سکتی ہے کیونکہ اس طریقے کار کے ذریعے افغانستان میں کئی ہزار امریکی فوجیوں کو رکھنے کے اخراجات برداشت کرنے کی ضرورت نہیں پڑےگی۔

امریکی ریاست ٹینی سی کے کانگریس مین جان ڈنکن بھی افغانستان میں امریکی فوج موجود رکھنے کے اخراجات کے خیال سے پریشان ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نہیں سمجھتا کہ امریکہ کی موجودہ حکمت عملی کامیاب ہو رہی ہے۔ اور اس کا خرچہ بھی ہمیں بہت بھاری پڑ رہا ہے۔

لیکن حکمت عملی جو بھی اپنائی جائے، کیلی فورنیا کے ری پبلیکن کانگریس مین ڈینا رورباکرکہتے ہیں کہ پاک بھارت تعلقات میں کشیدگی بھی افغانستان کو متاثر کرتی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اس کی وجہ سےافغانستان پر بہت برا اثر ہوا ہے۔ پاکستان اور بھارت، دونوں کو چاہیے کہ وہ افغان لوگوں کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی کوشش نہ کریں۔

افغانستان کے لیے صدر اوباما کی حکمت عملی کے بارے قدامت پسند پارٹی کے ممبران کی رائے جو بھی ہو، صدر اوباما نے حال ہی میں اعلان کیے بغیر افغانستان کا دورہ کرکے یہ ظاہر کیا ہے کہ وہ اپنی اس حکمت عملی کو کامیاب بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کرنے کو تیار ہیں۔

XS
SM
MD
LG