رسائی کے لنکس

افغانستان میں وسیع معدنی ذخائر موجود ہیں اور کئی چینی سرمایہ کار بھی ان معدنی ذخائر کی صنعت کو فروغ دینے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

افغانستان کے صدر اشرف غنی احمد زئی منگل کو اپنے پہلے سرکاری دورے پر چین کے دارالحکومت بیجنگ پہنچے جہاں انھوں نے صدر ژی جن پنگ سے ملاقات کی۔

ملاقات میں افغان صدر نے اپنے چینی ہم منصب کو بتایا کہ ان کے ملک کی ترقی کے اہداف خطے کی اقتصادی ترقی کے چینی تصور سے میل کھاتے ہیں۔

جنپنگ نے افغان صدر کو چین کی دوستی اور حمایت کا یقین دلایا لیکن اس کی انھوں نے مزید وضاحت نہیں کی۔

اشرف غنی اس دورے کے دوران اعلیٰ چینی عہدیداروں سے دوطرفہ امور سمیت علاقائی امن و سلامتی اور افغانستان میں سرمایہ کاری کے امور پر بات چیت کریں گے۔

اس دورے کے دوران ایک اعلی ٰ سطحی وفد بھی افغان صدر کے ہمراہ ہے۔

افغانستان سے غیر ملکی افواج کا انخلا شروع ہونے کے بعد سے جنگ سے تباہ حال اس ملک کو اقتصادی حوالے سے کئی چیلنجوں کا سامنا ہے اور افغان صدر اس دورے کے دوران چین کے سرمایہ کاروں کو افغانستان میں معدنی شعبے میں سرمایہ کاری کرنے کی دعوت دیں گے۔

افغانستان میں وسیع معدنی ذخائر موجود ہیں اور کئی چینی سرمایہ کار بھی ان معدنی ذخائر کی صنعت کو فروغ دینے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

ایک اندازے کے مطابق افغانستان میں تانبا، لوہا، چاندی، سونے، کوئلے اور قیمتی پتھروں کے وسیع ذخائر موجود ہیں جن کا تخمینہ 3 کھرب ڈالر کے قریب بتایا جاتا ہے۔

چین کی سرکاری کمپنی پہلے ہی کابل کے نزدیک تانبے کے ایک منصوبے سے متعلق معاہدہ کر چکی ہے لیکن گزشتہ سال طالبان کے حملے کی وجہ سے یہاں سے اپنے کارکنوں کو واپس بلا لیا تھا۔

افغانستان اور چین کی مشترکہ سرحد 76 کلومیڑ طویل ہے اور اس سرحد کے دوسری طرف چین کا صوبہ سنکیانگ ہے جہاں چین کو شورش پسندی کا سامنا ہے۔

چینی حکام کو خدشہ ہے کہ افغانستان سے غیر ملکی فوجوں کے انخلا کے بعد افغانستان میں سکیورٹی کے حوالے سے ہونے والی تبدیلیوں کے اثرات اس کے شمال مغربی علاقے میں بھی ہو سکتے ہیں۔

2014ء کے اواخر میں غیر ملکی افواج کی بڑی تعداد افغانستان سے واپس چلی جائے گی اور تقریباً 10,000 امریکی فوجی مقامی فورسز کو تربیت اور انسداد دہشت گردی میں معاونت کے لیے یہاں موجود رہیں گے۔

XS
SM
MD
LG