رسائی کے لنکس

افغانستان کے بااثر اور چوٹی کے علما نے ایک امریکی فوجی ڈے پہ گزشتہ ماہ قرآن نذرِ آتش کیے جانے کے واقعہ کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے ایک ناقابلِ معافی جرم قرار دیا ہے۔

افغان علما کونسل نے اپنے ایک بیان میں بگرام کے فوجی اڈے پر امریکی فوجیوں کی جانب سے مسلمانوں کی مقدس مذہبی کتاب کو نذرِ آتش کرنے کو ایک جرم اور غیر انسانی عمل قرار دیا۔

کونسل نے واقعے میں ملوث افراد کو "عوام میں مقدمہ چلا کر سزا دینے" کا مطالبہ کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ واقعہ پر اعلیٰ امریکی فوجی حکام اور صدر براک اوباما کی جانب سے کی گئی معذرت قبول نہیں کی جائے گی۔

افغان صدر حامد کرزئی نے رواں ہفتے علماء کونسل کے ایک وفد سے ملاقات کی تھی اور کونسل کے اس بیان کا حوالہ جمعہ کو افغان صدر کے دفتر سے جاری کیے جانے والے ایک بیان میں دیا گیا ہے۔

قرآن کی بے حرمتی کے خلاف افغانستان میں جاری پرتشدد عوامی مظاہروں میں اب تک کم از کم 30 افراد ہلاک ہوگئے ہیں اور خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ علماء کے اس بیان کے بعد مظاہروں میں مزید شدت آسکتی ہے۔

قرآن کی بےحرمتی پر عوامی احتجاج کے بعد افغانستان میں تعینات اتحادی افواج کے امریکی کمانڈر جنرل جان ایلن نے واقعہ پر تحریری طور پر معذرت طلب کرتےہوئے تحقیقات کا حکم دیا تھا۔

لیکن اس کے باوجود افغانستان میں احتجاجی مظاہرے بدستور جاری ہیں جن کا سلسلہ اب پڑوسی ملک پاکستان تک پھیل گیا ہے۔

احتجاجی مظاہروں کی ابتدا پر صدر کرزئی نے اپنے ایک بیان میں افغان شہروں سے پر امن رہنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہیں احتجاج کا حق حاصل ہے لیکن مظاہرین کو تشدد کی راہ اختیار کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔

امریکی خبر رساں ادارے 'ایسوسی ایٹڈ پریس' کا کہنا ہے کہ علما کونسل نے اپنے بیان میں امریکہ سے رات میں کی جانے والی چھاپہ مار کاروائیاں بند کرنے اور افغانستان میں موجود اپنے قیدخانوں کا انتظام افغان حکام کے سپرد کرنے کے مطالبات بھی کیے ہیں۔

XS
SM
MD
LG