رسائی کے لنکس

افغانستان میں دنیا کی نایاب ترین چڑیا کی دریافت


افغانستان میں دنیا کی نایاب ترین چڑیا کی دریافت

افغانستان میں دنیا کی نایاب ترین چڑیا کی دریافت

افغانستان میں ماہرینِ حیاتیات کو پہلی بار ایک ایسی چڑیا کے رہنے بسنے کے ایک علاقے کا پتا چلاہے جس کے بارے میں ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا میں بہت کم لوگ اس پرندے کے بارے میں کچھ جانتے ہیں۔

جنگلی حیات کے تحفظ کی سوسائٹی یا ڈبلیو سی ایس کے ماہرین نے پیر کے روز کہا ہے کہ انہیں شمال مشرقی افغانستان کے سلسلہ کوہ پامیر کے درّہ واخان کے ایک دور دراز علاقےمیں ایک ایسے مقام کا پتا چلا ہے جہاں بڑی چونچ والی اس قسم کی چڑیاں اپنے گھونسلے بناتی ہیں اور انڈے دیتی ہیں۔ماہرین نے اس چڑیا کو Reed Warbler کا نام دیا ہے۔ جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ گانے والی یہ چڑیا سرکنڈوں کی جھاڑیوں میں اپنے گھونسلے بناتی ہو گی۔

سائنس دانوں نے جنگلوں میں مختلف لوگوں کے مشاہدوں، ڈی این اے کی ساخت اور عجائب گھروں میں محفوظ نمونوں کی مدد سے اس سرکنڈے کی چڑیا کے وطن کو تلاش کیا اور پھر اپنی دریافت کی تصدیق کرنے کے لیے انہوں نے اُس علاقے میں اس قسم کے تقریباً 20 پرندوں کو پکڑنے کے بعد آزاد کر دیا۔ یہ بڑی چونچ والی سرکنڈوں کی چہچہاتی چڑیوں کی آج تک ریکارڈ کی جانے والی سب سے بڑی تعداد ہے۔

ڈبلیو سی ایس کا کہنا ہے افغانستان کے دشوار گزار درّہ واخان میں حیاتیات کے کئى راز ابھی تک محفوظ اور پوشیدہ ہیں اور یہ علاقہ اُس ملک میں جنگلی حیات کے تحفظ کی خاطر مستقبل کی کوششوں کے لیے بے حد اہم ہے۔

اس قسم کی چڑیا کا پہلا نمونہ1867ء میں اُس وقت کے ہندوستان میں ملا تھا۔ اور دوسرا نمونہ ایک سو سال سے بھی زیادہ عرصے کے بعد تھائى لینڈ میں ملا تھا۔

XS
SM
MD
LG