رسائی کے لنکس

محدود ذریعہ معاش افغانوں کی وطن واپسی میں رکاوٹ


پاکستان میں حکام نے 17 لاکھ اندراج شدہ افغان پناہ گزینوں کو وطن واپسی کے لیے اس سال کے اختتام تک کی مہلت دے رکھی ہے۔ (فائل فوٹو)

وطن واپس آنے والے افغان پناہ گزینوں کی ازسر نو بحالی کے عمل سے منسلک امدادی تنظیموں کو مالی وسائل کی دستیابی یقینی بنانا ناگزیر ہے۔

اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ افغانستان میں روزگار کے محدود ذرائع پناہ گزینوں کی وطن واپسی کی راہ میں بدستور ایک بڑی رکاوٹ ہیں۔

عالمی تنظیم کے تعاون سے حال ہی میں وضع کی گئی ایک حکمت عملی کے تحت 19 افغان صوبوں کے 48 ایسے علاقوں میں ترقیاتی منصوبوں میں اضافہ کیا گیا ہے جہاں رضا کارانہ طور پر وطن واپس لوٹنے والے پناہ گزینوں کی شرح نسبتاً زیادہ ہے۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزین (یو این ایچ سی آر) کی طرف سے اتوار کو جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا ہے کہ تنظیم کے پاکستان اور ایران میں تعینات نمائندوں نے رواں ہفتے افغانستان کا پانچ روزہ دورہ کیا، جس میں چار صوبوں میں اُن مقامات کا جائزہ لیا گیا جہاں بنیادی سہولتوں، ذریعہ معاش اور پُر امن ماحول کی بہتر فراہمی کی مدد سے پناہ گزینوں کی واپسی کی حوصلہ آفزائی کی جا رہی ہے۔

اس دورے کے بعد یو این ایچ سی آر کے عہدے دار اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ تمام تر معاونت کے باوجود روز گار کے محدود ذرائع کی وجہ سے پائی جانے والی حوصلہ شکن صورت حال میں بہتری کے لیے دیہی سطح پر کام کرنے والی امدادی تنظیموں کو مالی وسائل کی دستیابی یقینی بنانا ناگزیر ہے۔

اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق سن 2002ء سے اب تک تقریباً 57 لاکھ افغان پاکستان اور ایران سے رضا کارانہ طور پر وطن واپس جا چکے ہیں، جب کہ 27 لاکھ سے زائد درج شدہ پناہ گزین اب بھی ان دونوں ملکوں میں موجود ہیں۔

پاکستان میں حکام نے 17 لاکھ اندراج شدہ افغان پناہ گزینوں کو وطن واپسی کے لیے اس سال کے اختتام تک کی مہلت دے رکھی ہے، لیکن افغانوں کی ممکنہ طور پر جبری ملک بدری کی حالیہ اطلاعات کے بعد اعلیٰ ترین سطح پر یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ کمزور معیشت اور بنیادی ڈھانچے پر اضافی بوجھ ہونے کے باوجود حکومت پاکستان پناہ گزینوں کو زبردستی بے دخل کرنے کا ارادہ نہیں رکھتی۔

تاہم پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ لاکھوں ایسے افغان جو غیر قانونی طور پر پاکستان میں مقیم ہیں اُن کی بے دخلی خارج از امکان نہیں۔
XS
SM
MD
LG