رسائی کے لنکس

افغان صدر کرزئی کی جانب سے افغانستان میں امریکی افواج کی موجودگی سے متعلق ’سیکورٹی پیکٹ‘ پر دستخط سے انکار کے بعد، امریکہ افغان تعلقات سرد مہری کا شکار دکھائی دیتے ہیں

افغانستان کی جانب سے پیر کے روز امریکی انٹیلی جنس کی جانب سے اس پیش گوئی کو بے بنیاد قرار دیا گیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ امریکہ اور اتحادی افواج کی جانب سے افغانستان میں گذشتہ تین برسوں میں حاصل کی گئی کامیابی کے اثرات 2017ء تک بہت حد تک کم ہو جائیں گے۔

امریکی انٹیلی جنس کے مطابق، اگر امریکہ اور افغانستان کے درمیان 2014ء کے بعد افغانستان میں عالمی فوج کی تعیناتی کے حوالے سے معاہدہ طے نہیں پایا تو افغانستان کے حالات ’دگرگوں سے بدترین‘ حد تک جا سکتے ہیں۔

خبر رساں ادارے رائٹرز میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق، افغان صدر حامد کرزئی کے ترجمان ایمل فیضی نے امریکی پیش گوئی کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ ’ہم اس کی سختی سے تردید کرتے ہیں۔ ماضی میں بھی ایسی خبریں بے بنیاد ثابت ہو چکی ہیں‘۔

واضح رہے کہ امریکہ اور افغانستان کے درمیان تعلقات حال ہی میں افغان صدر کرزئی کی جانب سے امریکہ کے ساتھ افغانستان میں امریکی افواج کی موجودگی سے متعلق ’سیکورٹی پیکٹ‘ پر دستخط کرنے سے انکار کے بعد سے سرد مہری کا شکار دکھائی دیتے ہیں۔

امریکی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ اگر افغانستان میں تقریباً 8,000امریکی فوجیوں کی موجودگی کے بارے میں کوئی معاہدہ طے نہ پایا، تو افغانستان میں طالبان دوبارہ سر اٹھائیں گے اور افغانستان ایک مرتبہ پھر طالبان کا محفوظ ٹھکانہ بن جائے گا۔

افغانستان اور امریکہ کے درمیان سیکورٹی سے متعلق اس معاہدے پر دستخط اس لیے بھی ضروری ہے کہ اس کے بغیر امریکہ اور اس کے اتحادی اربوں ڈالر کی امداد روک لیں گے۔ معاہدے کے بغیر، امریکہ کو افغانستان سے اپنی تمام افواج نکالنا پڑیں گی اور افغانستان کو طالبان سے اپنے دم پر لڑنا ہوگا۔

امریکہ کی جانب سے افغانستان کے لیے سیکورٹی معاہدے پر دستخط کرنے کی ڈیڈ لائن منگل کو ختم ہوجائے گی، مگر وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ اس ڈیڈ لائن میں جنوری کے آغاز تک کی توسیع کی جا سکتی ہے۔

امریکی انٹیلی جنس کی جانب سے افغانستان میں کم امریکی فوجی دستوں کی موجودگی کو بھی امریکہ کے لیے ایک دھچکا قرار دیا ہے۔ مگر، ’رائٹرز‘ کے مطابق، چند امریکی عہدیداروں نے اس پیش گوئی کو قنوطیت سے تعبیر کیا ہے۔

افغان صدر حامد کرزئی کے ترجمان، ایمل فیضی نے امریکی انٹیلی جنس رپورٹ کے افشاء ہونے کو صدر کرزئی پر دباؤ ڈالنے اور افغانستان میں طالبان کے ساتھ امن مذاکرات کے لیے چند علاقے طالبان کے تصرف میں دینے کی ایک کوشش قرار دیا ہے۔

ایمل فیضی کے الفاظ، ’اگر یہ رپورٹ افغانستان کے کچھ علاقے طالبان کو دینے کے لیے دباؤ ڈالنے کا ایک حربہ ہے تو اس کی ہم کبھی اجازت نہیں دیں گے۔ اور ایسی کوئی کوشش کامیاب نہیں ہوگی‘۔

گذشتہ دو برسوں میں طالبان سے مذاکرات کی کوششیں بے سود گئی ہیں۔ شدت پسند افغانستان میں غیر ملکی افواج سے لڑ رہے ہیں اور افغان صدر کرزئی کو ’کٹھ پتلی صدر‘ قرار دیتے ہیں۔

حامد کرزئی کی جانب سے حال ہی میں یہ بیان سامنے آیا تھا کہ چند غیر ملکی اُن سے افغانستان کے چند علاقوں کا کنٹرول طالبان کو دینے کی بات کی گئی تھی تاکہ ان کے ساتھ امن مذاکرات کو ممکن بنایا جا سکے۔

گذشتہ ہفتے ایک بریفنگ میں، حامد کرزئی نے اخباری نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’غیرملکیوں کی جانب سے ہمیں حال ہی میں یہ کہا گیا کہ ہم افغانستان کے چند علاقے طالبان کے سپرد کردیں، تاکہ طالبان کے ساتھ امن مذاکرات شروع کیے جا سکیں‘۔

حامد کرزئی نے ’غیر ملکیوں‘ کے نام لینے سے گریز کیا تھا۔

صدر کرزئی کے بقول،’امریکہ یہاں سے نہیں جائے گا اور میں نے یہ بات سمجھ لی ہے۔ دیکھیئے کہ امریکہ نے بگرام اور ہلمند میں کتنی بڑی بڑی عمارتیں اور اڈے بنائے ہیں اور کیسے اپنے سفارت خانے کی توسیع کی ہے‘۔
XS
SM
MD
LG