رسائی کے لنکس

کیا افغانستان 2014ء میں اپنی ذمہ داریاں سنبھال سکتا ہے؟

  • روی کھنہ

افغان صدر حامد کرزئی (دائیں) اور امریکی وزیر خارجہ ہلری کلنٹن، کابل میں (فائل فوٹو)

افغان صدر حامد کرزئی (دائیں) اور امریکی وزیر خارجہ ہلری کلنٹن، کابل میں (فائل فوٹو)

وکی لیکس کے معاملے کے علاوہ واشنگٹن کے مبصرین گزشتہ ہفتےافغانستان میں ختم ہونے والی ڈونر کانفرنس کے دوران کیے جانے والے اعلانات کے بارے میں بھی ان دنوں تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں۔ان میں سے ایک اعلان کا تعلق 2014ء تک افغانستان کی سیکیورٹی کی ذمہ داری افغان فوج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے سپرد کرنے ، اور دوسرا افغانستان کی ترقی کے منصوبوں پر غیر ملکی امداد کا پچاس فیصد براہ راست کرزئی حکومت کے ذریعے خرچ کرنے کا تھا ۔

واشنگٹن میں جہاں افغان جنگ کے 2004 ء سے 2009ء کے واقعات سے متعلق خفیہ دستاویزات کے عام ہونے کی اندرونی کہانی کی تفتیش شروع ہوا ہی چاہتی ہے، ماہرین افغانستان کے 2014ء تک اپنی سلامتی کی ذمہ داریاں خود سنبھالنے کے قابل ہونے کے سوال کا جائزہ بھی لے رہے ہیں ، جس کا وعدہ صدر حامد کرزئی نے گزشتہ ہفتے کابل میں ہونےو الی ڈونر کانفرنس میں کیا تھا ۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے کہا تھا کہ یہ ٹائم فریم افغان عوام کو اپنے مستقبل کی منصوبہ بندی کا موقعہ دے گا ۔ان کا کہنا تھا کہ افغانستان اب اپنا مستقبل بنانے کی ذمہ داری اپنے سر لے گا ۔ افغان عوام اپنی ترجیحات خود طے کریں گے اور اپنے راستے کا تعین خود کریں گے ۔ عالمی برادری ان کے ساتھ ہے ۔

لیکن واشنگٹن کے ماہرین کہتے ہیں کہ افغانستان کی صورتحال امریکہ کے سامنے ایک ایسا کیس پیش کرتی ہے جس کی ہر ضرورت دوسرے سے مختلف ہے ۔ ایک طرف امریکہ کو افغان جنگ سے اپنی وابستگی ثابت کرنی ہے اور دوسری طرف یہ بھی ثابت کرنا ہے کہ امریکہ افغانستان میں ہمیشہ رہنے کے لئے نہیں گیا ۔

کرٹ والکر جو نیٹو میں امریکہ کے سفیر رہ چکے ہیں ، کہتے ہیں کہ صدر اوباما نے جولائی 2011ء کی جس تاریخ کا اعلان کیا تھا ، وہ قبل از وقت ہے ۔ اس نے لوگوں کو یہ تاثر دیا کہ ہم بس ابھی افغانستان چھوڑنے والے ہیں ۔ اس لئے مستقبل قریب کی ایسی منصوبہ بندی کرنا حقیقت پر مبنی ہوگا جس میں امریکہ افغانستان سے اپنے وابستگی کے ساتھ طویل مدتی کامیابی کے بعد وہاں سے نکلنے کے ارادے کا اظہاربھی کرے ۔

بعض ماہرین تو یہ بھی کہتے ہیں کہ صدر کرزئی کی اعلان کردہ 2014ء کی ٹائم لائن، عالمی برادری کو بھی افغانستان سے اپنی فوجیں واپس بلانے کا ٹائم ٹیبل طے کرنے میں مدد کرے گی ۔جس کا اندازہ برطانیہ کے نائب وزیر اعظم نک کلیگ کے گزشتہ ہفتے کے اس بیان سے بھی ہوتا ہے ۔جس میں انہوں نے کہا تھا کہ کوئی ٹائم ٹیبل پتھر پر لکیر نہیں ہو سکتا اورباوجود اس کے کہ ہم 18 مہینے کی فوجی حکمت عملی کے چھٹے مہینے میں ایک نئی سیاسی حکمت عملی میں داخل ہو رہےہیں ، یہ بالکل واضح ہے کہ ہمیں 2015ء تک اپنے آپ کو اس جنگی کردار سے باہر نکالنا ہے ۔

گزشتہ ہفتے افغانستان کے لئے عطیہ دہندگان ملکوں کی کانفرنس میں یہ بھی طے کیا گیا کہ عالمی امداد اب غیر سرکاری امدادی اداروں اور نجی ٹھیکے داروں کے بجائے براہ راست کرزئی حکومت کے ذریعے ترقیاتی منصوبوں پر خرچ ہوگی ۔ ہلری کلنٹن نے بد عنوانی پر قابو پانے کے لئے صدر کرزئی کی کوششوں پر اعتماد کا اظہار بھی کیا تھا ،لیکن واشنگٹن کے سینٹر فار سٹرٹیجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز کے انتھونی کورڈیز مین اس سے مطمئن نظر نہیں آتے ۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادی مختلف وجوہات کی بنا پر افغانستان میں بد عنوانی ممکن بنانے کے برابرذمہ دار ہیں ۔

واشنگٹن کے ماہرین تسلیم کرتے ہیں کہ افغان عوام کا اعتماد جیتنے کے لئے عالمی امدادی کانفرنسیں نہیں ، یہ یقین دلانا ضروری ہے کہ امریکہ اور اتحادی افواج افغانستان کو شکست دینے کے لئے وہاں نہیں ہیں بلکہ افغانستان کو خود مختار ملک بنانے اور اس کے عوام کو اپنے ملک کا اختیار اپنے ہاتھ میں لینے کے قابل بنانے کے لئے ہے ۔

XS
SM
MD
LG