رسائی کے لنکس

غیر ملکی افواج کے افغانستان سے انخلا کے تناظر میں ایسے حملوں کو مقامی سکیورٹی فورسز کے لیے ایک بڑا چیلنج قرار دیا جا رہا ہے

افغانستان میں ہفتہ کو بم دھماکوں کے دو مختلف واقعات میں کم ازکم دس افراد ہلاک ہو گئے۔

جنوبی صوبہ قندھار میں پنجوائی ضلع کے پولیس حکام کا کہنا ہے کہ سڑک میں نصب بم دھماکے کی زد میں آنے والی ایک گاڑی پر عام شہری سوار تھے اور اس واقعے میں آٹھ افراد ہلاک ہوئے۔

حکام نے اس واقعے کا الزام طالبان پر عائد کیا جو کہ اکثر اپنی پر تشدد کارروائیوں کے لیے یہ حربہ استعمال کرتے ہیں۔

دوسرا واقعہ مشرقی صوبہ ننگرہار کے شہر جلال آباد میں پیش آیا جہاں ایک گاڑی سڑک میں نصب بم سے ٹکرا گئی۔

صوبائی گورنر کے ایک ترجمان احمد ضیا عبدالزئی کے مطابق واقعے میں ایک پولیس افسر اور ایک عام شہری ہلاک ہوا۔

تاحال کسی نے بھی ان واقعات کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے لیکن حالیہ مہینوں میں طالبان عسکریت پسندوں کی طرف سے ملک میں ہلاکت خیز حملوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

رواں سال کے اواخر میں غیر ملکی افواج کے افغانستان سے انخلا کے تناظر میں ایسے حملوں کو مقامی سکیورٹی فورسز کے لیے ایک بڑا چیلنج قرار دیا جا رہا ہے۔

طالبان کی طرف سے یہ دعویٰ بھی کیا جاتا رہا ہے کہ وہ دوبارہ ملک پر تسلط قائم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

اسی تناظر میں امریکہ نے افغانستان کے ساتھ ایک دوطرفہ سکیورٹی معاہدہ تجویز کر رکھا ہے جس کے تحت 2014ء کے بعد بھی یہاں کم ازکم دس ہزار فوجی موجود رہیں گے جو افغان سکیورٹی فورسز کو تربیت اور انسداد دہشت گردی میں ان کی معاونت کریں گے۔

لیکن تاحال اس معاہدے پر افغان صدر کی طرف سے دستخط نہ ہونے کی وجہ سے اس پر پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔ موجود صدر حامد کرزئی یہ کہہ چکے ہیں کہ ملک کا نیا صدر ہی اس پر دستخط کرے گا۔

افغانستان میں صدارتی انتخابات کے ابتدائی نتائج کے بعد ایک نیا تنازع کھڑا ہو چکا ہے جس کے حل میں مدد کے لیے امریکی وزیرخارجہ اس وقت کابل میں ہیں۔

ابتدائی نتائج کے مطابق اشرف غنی کو برتری حاصل ہے لیکن دوسرے امیدوار عبداللہ عبداللہ نے انتخابات میں دھاندلی اور بوگس ووٹنگ کا الزام عائد کرتے ہوئے نتائج کو ماننے سے انکار کر دیا ہے۔

XS
SM
MD
LG