رسائی کے لنکس

ایران سے لاکھوں افغان پناہ گزینوں کی بے دخلی کا خدشہ


فائل

فائل

افغانستان پر امریکی حملے کے بعد ایران آنے والے لاکھوں افغانوں کو تاحال ضروری دستاویزات جاری نہیں ہوسکی ہیں۔

افغانستان کی حکومت نے ایران میں غیر قانونی طور پر مقیم ساڑھے سات لاکھ سے زائد افغان پناہ گزینوں کی ملک بدری روکنے کے لیے اپنا ایک اعلیٰ سطحی وفد تہران روانہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

افغان حکومت کے چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ کے ایک ترجمان نے بدھ کو کابل میں صحافیوں کو بتایا ہے کہ افغان وفد ایرانی حکومت سے ان پناہ گزینوں کے ویزوں میں ایک سال کی توسیع کرنے کی درخواست کرے گا۔

پناہ گزینوں سے متعلق اقوامِ متحدہ کے ادارے کا کہنا ہے کہ ایران میں ا ب بھی 10 لاکھ سے زائد رجسٹرڈ افغان پناہ گزین مقیم ہیں جن کی اکثریت 2001ء سے قبل ایران آئی تھی۔

تاہم 2001ء میں افغانستان پر امریکی حملے کے بعد ایران آنے والے لاکھوں افغانوں کو تاحال ضروری دستاویزات جاری نہیں ہوسکی ہیں جس کے باعث وہ پناہ گزینوں کو حاصل مراعات سے محروم ہیں۔

رواں سال جون میں ایرانی حکومت نے غیر قانونی طور پر پناہ گزین ان افغان باشندوں کے ویزوں میں چھ ماہ کی توسیع کرنے کا اعلان کیا تھا جو رواں ماہ پوری ہورہی ہے۔

افغان حکومت کا کہنا ہے کہ ایران میں سات لاکھ 60 ہزار سے زائد غیر رجسٹرڈ افغان پناہ گزین موجود ہیں جن کے ویزوں کی میعاد آئندہ 20 روز میں پوری ہوجائے گی جس کے بعد انہیں ملک بدری کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔

افغان حکومت کے ترجمان نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ افغان حکومت نے ایران سے ان افراد کے ویزوں میں مزید ایک سال کی توسیع کی درخواست کی ہے تاکہ ان کے ایران میں قیام میں توسیع ہوسکے۔

ایران کی وزارتِ خارجہ نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے۔

اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے تعاون سے 2002ء سے اب تک کل نو لاکھ افغان پناہ گزین ایران سے واپس افغانستان جاچکے ہیں لیکن افغانستان میں امن و امان کی خراب صورتِ حال اور غیر ملکی افواج کے انخلا کے بعد غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہونے کے خدشات کے باعث پناہ گزینوں کی واپسی کا عمل متاثر ہوا ہے۔

عالمی ادارے کا کہنا ہے کہ آئندہ سال صرف 20 ہزار افغان پناہ گزینوں کی ایران سے وطن واپسی متوقع ہے جو ماضی کے مقابلے میں بہت کم تعداد ہے۔

XS
SM
MD
LG