رسائی کے لنکس

امریکی حملے میں تین افغان شہریوں کی ہلاکت کا دعویٰ


فائل

فائل

افغان صدر کے دفتر کی جانب سے جاری کیے جانے والے ایک بیان کے مطابق امریکی طیاروں نے یہ حملہ پیر کی شب افغان صوبے خوست کے ایک دیہی علاقے میں کیا۔

افغان حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ مشرقی افغانستان میں ایک امریکی فضائی حملے میں کم از کم تین عام شہری ہلاک ہوگئے ہیں۔

منگل کو افغان صدر کے دفتر کی جانب سے جاری کیے جانے والے ایک بیان کے مطابق امریکی طیاروں نے یہ حملہ پیر کی شب افغان صوبے خوست کے ایک دیہی علاقے میں کیا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ افغان صدر حامد کرزئی حملے کو دونوں ملکوں کے درمیان موجود معاہدوں کی خلاف ورزی تصور کرتے ہیں اور عام افغان شہریوں کی ہلاکت کی سخت مذمت کرتے ہیں۔

افغانستان میں موجود غیر ملکی افواج کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ واقعےکی تحقیقات کی جارہی ہیں۔

خیال رہے کہ افغانستان میں اتحادی افواج کی کارروائیوں میں عام شہریوں کی وقتاً فوقتاً ہلاکت کا معاملہ دونوں ملکوں کے درمیان وجۂ نزاع بنا رہا ہے۔

افغان صدر حامد کرزئی ماضی میں اس نوعیت کے حملوں پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے آئے ہیں۔

افغان صدر امریکہ کے ساتھ مجوزہ سکیورٹی معاہدے پر دستخط نہ کرنے کی جو وجوہات بیان کرتے رہے ہیں ان میں اتحادی افواج کے حملوں میں عام افغان شہریوں کی ہلاکت کا مسئلہ سرِ فہرست ہے۔

مجوزہ معاہدے کے تحت امریکہ 2014ء کے بعد بھی اپنے چند ہزار فوجی افغانستان میں تعینات رکھ سکے گا۔

افغان صدر باقی رہ جانے والے امریکی فوجیوں کو افغان حکام کی اجازت کے بغیر کارروائی کا اختیار دینے سے انکاری ہیں اور کسی حملے کے دوران عام افغانوں کی ہلاکت کی صورت میں ذمہ دار فوجیوں پر افغان عدالتوں میں مقدمات چلانے کا اختیار چاہتے ہیں جو امریکہ کو تسلیم نہیں۔
XS
SM
MD
LG