رسائی کے لنکس

افغانستان:مقامی افواج کی ذمہ داریوں میں اضافہ

  • فل اٹنر

افغانستان:مقامی افواج کی ذمہ داریوں میں اضافہ

افغانستان:مقامی افواج کی ذمہ داریوں میں اضافہ

بین الاقوامی کمیونٹی نے افغانستان میں اپنے مشن کے جنگی مرحلے کو سمیٹنا شروع کر دیا ہے۔ اس ہفتے بین الاقوامی فوجیں سیکورٹی کا کنٹرول افغان سیکورٹی کو منتقل کرنے کا آغاز کر رہی ہیں۔ سیکورٹی کے فرائض کی منتقلی کا ایک اہم جزو افغان فورسز کی تربیت ہے ۔

اس ہفتے نیٹو کی سیکورٹی فورسز نے سات اضلاع کی سیکورٹی، افغان فورسز کو منتقل کرنے کا کام شروع کر دیا۔ اب افغانستان کے لوگ مستقبل کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔ افغانستان کے بعض حصوں کو جہاں باغی بہت کم سرگرم تھے، نسبتاً محفوظ خیال کیا جاتا ہے۔ اب ان علاقوں کی حفاظت ملک کی اپنی سیکورٹی فورسز کریں گی ۔

افغانستان میں امریکہ اور نیٹو کی فورسز کے نئے کمانڈر، میرین لیفٹیننٹ جنرل جان ایلن نے لشکر گاہ میں اختیارات کی منتقلی کی تقریب سے خطاب کیا۔ لشکر گاہ ، ہلمند صوبے کا وہ قصبہ ہے جہاں تقریباً دس سالہ جنگ کے بد ترین معرکے دیکھنے میں آئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اب یہ افغانوں کا کام ہے کہ وہ اپنے ملک کی حفاظت کریں۔’’اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اب یہ افغان سپاہیوں، افغان پولیس اور گشت کرنے والے افغانوں کا کام ہو گا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ حالات پرانی ڈگر پر واپس نہ جانے پائیں ۔‘‘

جنوبی افغانستان کے بہت سے حصوں میں، امریکی فوجوں میں تیزی سے اضافے نے طالبان کی اس صلاحیت کو ختم کر دیا ہے کہ وہ علاقے کا کنٹرول حاصل کر سکیں۔تا ہم، باغیوں نے دکھا دیا ہے کہ وہ بعض مخصوص اہداف پر اچانک حملوں سے اپنا اثر و رسوخ قائم رکھ سکتے ہیں۔

قندھار میں صوبائی کونسل کے سربراہ احمد ولی کرزئی کے حالیہ قتل نے ، جو صدر حامد کرزئی کے سوتیلے بھائی تھے، ایسے وقت میں جب تبدیلی کا عمل تیز ہوتا جا رہا ہے، جنوب کو غیر مستحکم کر دیا ہے۔ ان کی ہلاکت سے طاقت کے ڈھانچے میں خلا پیدا ہو گیا ہے ۔

جیسے جیسے نیٹو کی قیادت میں یہ مشن سمیٹا جا رہا ہے، مضبوط اور اہل افغان فورسز کی ضرورت بھی بڑھتی جا رہی ہے جو نئی ذمہ داریاں سنبھال سکیں، ایسی افغان فورسز جو افغانستان کی حفاظت کر سکِیں۔

اور یہ کوئی آسان کام نہیں ہے ۔ کابل میں خیموں کے ایک شہر میں، ہزاروں ان پڑھ رنگروٹوں کو پڑھنا، لکھنا اور حساب کا مضمون پڑھایا جا رہا ہے ۔ اس سے پہلے کہ وہ کوئی ہتھیار اٹھانے کے بارے میں سوچیں، انہیں یہ بنیادی مہارتیں آنی چاہئیں۔

یہ کیڈٹ افغانستان کے تمام علاقوں سے آئے ہیں اور یوں انہیں تربیت دینے کا کام اور مشکل ہو گیا ہے۔ مختلف نسلوں سے تعلق رکھنے والے اس ملک میں کم از کم آٹھ زبانیں بولی جاتی ہیں۔ لیکن نیٹو کے ٹرینر، کیپٹین کارل گنٹر کہتے ہیں کہ افغانستان کے لیے اس قسم کے پروگرام کے فوائد صرف سیکورٹی تک محدود نہیں۔

’’اس پروگرام میں شرکت کرنے والا سپاہی آٹھ ہفتوں کے بعد بنیادی خواندگی اور ریاضی سیکھ لیتا ہے ۔ اس طرح اسے اپنا سپاہی کا کام کرنا ہی نہیں آتا بلکہ جب وہ اپنی فوجی ڈیوٹی ختم کرکے سویلین زندگی میں اپنے گھر واپس جاتا ہے تو وہ اپنی خواندگی اپنے گاؤں میں لے جاتا ہے۔ اس طرح ، لمبے عرصے کے لیے افغانستان کی مجموعی ترقی میں مدد مل رہی ہے۔‘‘

لیکن سپاہی کی اپنے گاؤں کو واپسی نیٹو اور حکومت کے لیے بھی چیلنج ہے کیوں کہ بہت سے سپاہی تربیت اور سامان حاصل کریں گے اور جلد اپنے گھر لوٹ جائیں گے ۔ نیٹو کے فوجی عہدے دار یہ بات تسلیم کرتے ہیں کہ ان سپاہیوں کو واپس جانے سے روکنا، ایک چیلنج ہے ۔ اس چیلنج کا مقابلہ کرنے کے لیے، وہ اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ افغان سپاہی ثابت قدم رہیں۔ لیکن کچھ نوجوانوں میں، اپنے فرض سے لگن اور عزم و حوصلہ ظاہر ہے۔ کیڈٹ مصطفی ہوادی کو امید ہے کہ اسے ویسٹ پوائنٹ میں چار سالہ پروگرام میں شامل ہونے کا موقع ملے گا۔ اس کے بعد وہ ایک افسر کی حیثیت سے افغانستان واپس آ جائیں گے، اور دس برس تک ڈیوٹی انجام دینے کے پابند ہوں گے۔

ہوادی کہتے ہیں’’مجھے امید ہے کہ میں جنگ کے جدید طریقے سیکھوں گا، اور فوجی زندگی کے بارے میں جدید معلومات حاصل کروں گا۔ یعنی یہ کہ کس طرح جوابی کارروائی کی جائے، جنگی چالیں کس طرح استعمال کی جائیں، اپنی صلاحیت، اپنے اعتماد کو افغانستان کی قومی فوج اور عوام کے لیے کس طرح استعمال کیا جائے۔‘‘

جنوب میں اختیارات کی منتقلی کی تقریب میں، مقامی فورسز کہتی ہیں کہ وہ اپنے لوگوں کی حفاظت کا فرض ادا کرنے کو تیار ہیں۔ وہ یہ فرض کتنی اچھی طرح انجام دیتی ہیں، یہ ملک کے مستقبل کے لیئے، اور ایک ایسی جنگ میں جو اب امریکہ کے لیئے طویل ترین جنگ بن چکی ہے، امریکہ کی شرکت کے خاتمے کے لیے بہت اہم ہوگا۔

XS
SM
MD
LG