رسائی کے لنکس

جنوبی افغانستان میں سلامتی کی صورت حال میں بنیادی تبدیلی: رپورٹ

  • میریڈتھ بیول

جنوبی افغانستان میں سلامتی کی صورت حال میں بنیادی تبدیلی: رپورٹ

جنوبی افغانستان میں سلامتی کی صورت حال میں بنیادی تبدیلی: رپورٹ

افغانستان کی جنگ کے بارے میں ایک نئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ملک کے جنوبی حصے میں سکیورٹی کی صورتِ حال ایک سال قبل کے مقابلے میں بنیادی طور سے تبدیل ہو چکی ہے ۔ جنوب میں طالبان کے تقریباً تمام محفوظ ٹھکانے ختم ہو چکے ہیں اور وہاں بغاوت کا زور ٹوٹ چکا ہے۔

امریکن انٹرپرائز انسٹی ٹیوٹ اور انسٹی ٹیوٹ فار دی سٹڈی آف وار کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صدر اوباما کے افغانستان میں مزید 30,000 فوجی تعینات کرنے کے فیصلے کے ایک سال بعد، کافی پیش رفت ہوئی ہے ۔

اضافی فوجوں کی کامیابی کا اندازہ لگانے کے لیے 2010ء کے دوران افغانستان میں 150 دن صرف کرنے والے امریکن اینٹرپرائز انسٹی ٹیوٹ کے فریڈرک کاگن (Fredrick Kagan) کہتے ہیں کہ جنوب میں سکیورٹی کی صورت حال میں جو بہتری آئی ہے وہ اتنی اہم ہے کہ اس کی پہلے کوئی نظیر نہیں ملتی ۔

’’ہم نے اس سے پہلے کبھی بڑے پیمانے پر ایک ہی وقت میں ہلمند اور قندھار میں کئی ایسی کارروائیاں نہیں کیں جن کا مقصد علاقے کو باغیوں سے پاک کرنا اور اس پر قبضہ برقرار رکھنا ہو، یعنی صاف کیے ہوئے علاقے کو اپنے قبضے میں رکھنا اور ساتھ دوسرے علاقے سے باغیوں کا صفایا کرنا۔ یہ کام ہم نے پہلے کبھی نہیں کیا تھا۔‘‘

اگرچہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شمال میں بغاوت کے زور میں اضافہ نہیں ہو رہا ہے، لیکن تجزیہ کاروں نے اس تشویش کا اظہار کیا ہے کہ کچھ شمالی صوبوں میں سکیورٹی کی صورت ِ حال خراب ہو رہی ہے ۔

سینٹر فار نیو امریکن سکیورٹی کے تجزیہ کار اینڈریو ایگزم کہتے ہیں کہ ’’چونکہ انٹیلی جنس کمیونٹی میں اتنے سارے لوگ کہہ رہے ہیں کہ صورت حال خراب ہوئی ہے اور چونکہ بہت سے رپورٹرز اور صحافی شمال میں بگڑتے ہوئے حالات کی بات کر رہے ہیں، اس لیے جب تک مزید ثبوت نہ مل جائے، میں یہ کہنے میں احتیاط سے کام لوں گا کہ ہمیں کامیابی ہو رہی ہے۔‘‘

صدر براک اوباما

صدر براک اوباما

صدر براک اوباما نے اعلان کیا ہے کہ اس سال کے دوران افغانستان میں امریکی فوجوں میں کمی شروع ہو گی اور 2014 تک سکیورٹی کی ذمہ داریاں افغان فورسز کو منتقل کر دی جائیں گی۔ آج کل افغان فوج کے سپاہیوں کی تعداد تقریباً150,000 ہے ۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ 2010 میں پچاس ہزار فوجیوں کا اضافہ ہوا۔

امریکی فوج کے ریٹائرڈ جنرل جیک کین (Jack Keane)، جو آج کل اے بی سی نیوز میں نیشنل سیکورٹی کے تجزیہ کار ہیں، کہتے ہیں کہ افغان فوج کی تعداد میں اضافے سے فرق پڑ رہا ہے۔

’’ظاہر ہے کہ افغان فوج اور سیکورٹی فورس ہماری افغانستان سے نکلنے کی حکمت عملی کا حصہ ہیں ۔ میں آپ کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ اب اس فورس سے خاصا فرق پڑ رہا ہے اوروقت کے ساتھ ساتھ اس کی پختگی اور اس کی وسعت میں اہم تبدیلی آئے گی۔‘‘

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں باغیوں کے ٹھکانوں کی مسلسل موجودگی، افغانستان میں نیٹو کے مشن کی کامیابی کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ ریٹائرڈ جنرل کین کہتے ہیں کہ امریکہ اور دوسرے ملکوں کو پاکستانی حکومت اور فوج پر زیادہ دباؤ ڈالنا چاہیئے کہ وہ اپنے ملک کے اندر باغیوں کے محفوظ ٹھکانوں سے نمٹیں۔

’’یہ سرا سر زیادتی ہے کہ علاقے میں ہمارا ایک ایسا اتحادی ہے جسے ہم مسلسل پیسہ دیتے ہیں اور وہ براہ راست ان محفوظ ٹھکانوں کو مدد اور حوصلہ دے رہا ہے جہاں سے افغانستان اور نیٹو فورسز کے خلاف اور افغان فورسز پر حملے کیے جاتے ہیں، اور باقاعدگی سے ہمیں ہلاک کیا جاتا اور اپاہج بنایا جاتا ہے ۔‘‘

امریکی فوجی عہدے داروں نے پاکستان میں شمالی وزیرستان کے قبائلی علاقے کو دنیا میں دہشت گردی کا مرکز کہا ہے ۔

جنوبی افغانستان میں سلامتی کی صورت حال میں بنیادی تبدیلی: رپورٹ

جنوبی افغانستان میں سلامتی کی صورت حال میں بنیادی تبدیلی: رپورٹ

پاکستانی فوج کے عہدے داروں نے اشارہ دیا ہے کہ وہ اس علاقے پر حملہ کریں گے ، لیکن وہ کہتے ہیں کہ آج کل اس قسم کے آپریشن کے لیے ان کے پاس کافی نفری نہیں ہے کیوں کہ فوج بہت بڑے علاقے میں بکھری ہوئی ہے ۔

XS
SM
MD
LG