رسائی کے لنکس

افغان خواتین بدستور عدم تحفظ کا شکار: اقوام متحدہ


افغان خواتین بدستور عدم تحفظ کا شکار: اقوام متحدہ

افغان خواتین بدستور عدم تحفظ کا شکار: اقوام متحدہ

کم عمری میں لڑکیوں کی شادی افغانستان بھر میں ایک بڑا مسئلہ ہے۔ جہاں ایک طرف لوگ اس کو افغان ثقافت کا ایک ”بے ضرر“حصہ قرار دیتے ہیں وہیں رپورٹ کے مطابق صوبہ بلخ میں خواتین کا کہنا تھا کہ اس علاقے میں ایک کہاوت عام ہے جس کے مطابق اگر لڑکی کو ٹوپی ماری جائے اور وہ اس کی زد برداشت کرلے اور زمین پر نا گرے تو وہ شادی کے لائق ہوتی ہے۔

افغانستان میں طالبان کی حکمرانی ختم ہوئے نو برس سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے لیکن آج بھی شورش اور خانہ جنگی سے تباہ حال اس ملک میں لاکھوں خواتین اور لڑکیاں فرسودہ رسم و رواج کے باعث ظلم و زبردستی کا شکار ہیں۔

یہ انکشاف افغانستان میں اقوام متحدہ کے معاون مشن (یو این اے ایم اے) نے جمعرات کو جاری کی گئی اپنی تازہ رپورٹ میں کیا ہے جس کے مطابق عمومی طور پر ملک کے تمام حصوں میں خواتین کے حقوق کی خلاف ورزی کا سلسلہ جاری ہے۔ یہ رپورٹ رواں سال افغانستان کے 34 میں سے 29 صوبوں میں مقامی افراد سے حاصل کی گئی معلومات کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے۔

اگست 2009ء میں افغانستان نے خواتین پر تشدد کی روک تھام سے متعلق قانون نافذ کیا تھا لیکن ایک طرف بعض ادارے اس سے نا واقف ہیں جب کہ کچھ اس پر عمل درآمد کرنے پر رضا مند نہیں یا وہ اس میں ناکام رہے ہیں۔

اس قانون کے تحت شادی کی غرض سے خواتین کی خرید و فروخت، جبراً اور کم عمری میں شادی، اور اُن کو تعلیم، کام کاج اور صحت کی بنیادی سہولتوں سے دور رکھنے کو غیر قانونی قرار دیا گیا تھا۔

یو این اے ایم اے کی ڈائریکٹر جیورجٹ گینن نے کہا ہے کہ افغان خواتین کے حقوق کو یقینی بنانے کے لیے محض قوانین متعارف کرنا کافی نہیں بلکہ اس سے زیادہ اہم ان کا اطلاق ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ ”افغان پولیس اور عدلیہ کو قومی سطح کے اداروں کی کہیں زیادہ رہنمائی، تعاون اور نگرانی کی ضرورت ہے تاکہ اس قانون کا صحیح طور پر نفاذ ہو سکے۔“

اقوام متحدہ کے مطابق اس قانون میں کئی خامیاں موجود ہیں مثال کے طور پر غیرت کے نام پر قتل کو جرم قرار نہیں دیا گیا، لیکن اس کے باوجود قانون کا فوری نفاذ انتہائی ضروری ہے اور اس میں مطلوبہ اصلاحات مستقبل میں کی جاسکتی ہیں۔

”جب تک خواتین اور لڑکیوں کو ایسے اقدامات کا نشانہ بنایا جاتا رہے گا جس سے اُنھیں نقصان پہنچے، اُن کی ہتک ہو، حقوق کی خلاف ورزی ہو، افغانستان میں بہت کم معنی خیز اور پائیدار پیش رفت ہو سکے گی۔“

افغان خواتین بدستور عدم تحفظ کا شکار: اقوام متحدہ

افغان خواتین بدستور عدم تحفظ کا شکار: اقوام متحدہ

طالبان نے خواتین اور بچیوں کی تعلیم پر پابندی کے علاوہ اُن کی نقل و حرکت بھی محدود کر دی تھی جب کہ خواتین کے لیے گھروں سے باہر نکلتے وقت برقعے کا استعمال بھی لازمی تھا۔

کم عمری میں لڑکیوں کی شادی افغانستان بھر میں ایک بڑا مسئلہ ہے۔ جہاں ایک طرف لوگ اس کو افغان ثقافت کا ایک ”بے ضرر“حصہ قرار دیتے ہیں وہیں رپورٹ کے مطابق صوبہ بلخ میں خواتین کا کہنا تھا کہ اس علاقے میں ایک کہاوت عام ہے جس کے مطابق اگر لڑکی کو ٹوپی ماری جائے اور وہ اس کی زد برداشت کرلے اور زمین پر نا گرے تو وہ شادی کے لائق ہوتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق مختلف تجزیوں سے معلوم ہوتا ہے کہ ملک میں لڑکیوں کی کل تعداد میں سے 50 فیصد کی شادی 15 سال کی عمرسے قبل کر دی جاتی ہے۔ اس سلسلے میں سرکاری اعداد و شمار دستیاب نہیں ہیں۔

اس میں کہا گیا ہے کہ زیادتیوں سے بچنے کے لیے گھروں سے بھاگنے والی زیادہ تر خواتین گرفتار کر لی جاتی ہیں جن کو قید کر کے ان پر مقدمہ عموماً بغیر شادی کے جنسی تعلقات استوار کرنے کا ارادہ رکھنے کے الزام میں چلایا جاتا ہے، گو کہ اپنا گھر چھوڑنا کوئی جرم نہیں ہے۔

رپورٹ میں یہ انکشاف بھی کیا گیا ہے کہ افغانستان کے بعض حصوں میں خواتین کے خودسوزی کرنے کے رجحان میں اضافہ ہو رہا ہے، اور ملک میں جھلسے ہوئے افراد کے علاج کے واحد مرکز کے اعلیٰ ترین عہدیدار کے مطابق خودسوزی کی سب سے بڑی وجہ لڑکیوں کی جبراً شادی ہے۔

XS
SM
MD
LG