رسائی کے لنکس

افغانستان پر امریکہ میں تھیٹر ڈرامے


افغانستان کے بارے میں ڈرامہ “گریٹ گیمز”

افغانستان کے بارے میں ڈرامہ “گریٹ گیمز”

ان دنوںواشنگٹن ڈی سی کے ایک تھیٹر میں افغانستان کے پس منظر میں ایسے سٹیج ڈرامے پیش کیے جا رہے ہیں جن کا مقصد طالبان سے نمٹنے کی ان کوششوں کو اجاگر کرنا ہے جو وہاں امریکی اور افغان فورسز مشترکہ طورپر کررہی ہیں۔ ان ڈراموں کا مقصد امریکی سوچ میں تبدیلی لانا اور دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ سے متعلق خدشات دور کرنا ہے۔

سٹیج تیار ہے، میک اپ کیا جا چکا ہے اور حاضرین نشتیں سنبھال چکے ہیں۔ 14 برطانوی اداکاروں پر مشتمل ایک تھیٹر گروپ ڈرامہ شروع کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔ ڈرامے کا نام گریٹ گیم افغانستان ہے۔

یہ 12رزمیہ ڈراموں اور سات گھنٹے پر مشتمل داستان ہے جس کا مقصد اپنے حاضرین کو جنگوں سے تباہ حال افغانستان کی تاریخ سے روشناس کرانا ہے، جس کی ابتدا1842ءمیں مغربی قوتوں کی جانب سے اس علاقے میں پہلی دخل اندازی کے بعد شروع ہوئی تھی۔

بڑی کاسٹ کے اس ڈرامے کے ڈائریکٹر نکولس کینٹ کا کہنا ہے کہ افغانستان کے ثقافتی رنگوں کو نمایاں کرنے کے لیے زیادہ اداکاروں کی موجودگی ضروری تھی۔

وہ کہتے ہیں کہ عراق میں جو کچھ ہوا۔ اس کو بعد میں فلمایا گیا۔ ان پر کتابیں لکھی گئیں۔ میڈیا عراق کی صورتحال دکھاتا رہا لیکن ہم نے افغانستان کو نظر انداز کیا۔

دو سال قبل کینٹ نے اپنی کوششوں کا آغاز کیاجس کی ابتدا کہانیوں کی ایک سیریز لکھنے سے شروع ہوئی۔ ان کہانیوں کا مقصد افغانستان کی تاریخ اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کے سب سے بڑے محاذ کا احاطہ کرنا تھا۔

کینٹ کہتے ہیں کہ یہ کہانی جنگ کے بارے میں نہیں ہے۔ یہ کہانی افغانستان کی تاریخ کے بارے میں اور وہاں کے لوگوں کے بارے میں ہے۔جسے میں تفریح کے پہلو کو سامنے رکھتے ہوئے ہر ممکن طورپر بہتر انداز میں پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

ان ڈراموں کو امریکہ کے چار شہروں میں پیش کیا جائے گا جس کا آغاز امریکی دارالحکومت واشنگٹن کے شیکسپیئر تھیٹر سے کیا جارہاہے۔ تھیٹر کےایک عہدے دار مائیکل خان کا کہنا ہے کہ اس کھیل کو انگلستان سے امریکہ لانا مفیدرہا ہے۔

مائیکل خان کہتے ہیں کہ افغانستان کے بارے میں ہم روزانہ ہی اخبار، ریڈیو یا ٹی وی پر خبریں دیکھتے ہیں۔ جبکہ اس علاقے کے بارے میں ہمارے پاس ٹھوس معلومات نہیں ہوتیں کہ ہم کوئی حتمی رائے قائم کر سکیں۔

ان ڈراموں میں افغانستان کو اتنے بہتر انداز میں پیش کیا گیا ہے کہ برطانوی عہدے داروں نے اپنے فوجیوں کو افغانستان جانے سے قبل یہ ڈرامے دیکھنے کی تاکید کی۔

ٹام مک کےجو ایک برطانوی سپاہی کا کردار ادا کر رہے ہیں ، کہتے ہیں کہ اس قسم کے کردار کی ادائیگی کوئی آسان کام نہیں ہے۔کیونکہ اس پر سب کی نظریں ہوتی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ اس کھیل کی اہمیت اس وقت واضح ہوتی ہے جب تھیٹر میں اعلی فوجی عہدے دار اور سپاہی موجود ہوں۔ تب آپ کو اندازہ ہوتا ہےکہ یہ محض اداکاری ہی نہیں ہے بلکہ بہت سی باریک چیزوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے اپنی ذمہ داری ادا کرنے کا کام ہے۔
شیریں ایک ایسی افغان خاتون کا کردار ادا کر رہی ہیں جن کے سکول کو طالبان نےدھماکہ کرکے اڑا دیا تھا۔ وہ کہتی ہیں کہ افغانستان جیسے حالات کے ملک میں رہنا آسان نہیں جہاں آپ کی آواز سننے اور آپ کے حالات کو سمجھنے والا کوئی نہیں۔

سابقہ امریکی سفیر سینتھیا شینائیڈر نے، جو اب جارج ٹاؤن یونیورسٹی سے بطور پروفیسر منسلک ہیں نے ان ڈراموں کو اپنی کلچرل ڈپلومیسی کی کلاسوں کے لیے لازم قرار دیا ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ یہاں آپ ان تینوں ڈراموں کو دیکھ سکتے ہیں جو افغانستان کی موجودہ تاریخ کو سمجھنے کے لیے بہت مددگار ثابت ہوں گے اور تاریخ اپنے آپ کو دہراتی رہتی ہے۔
جب کہ اداکار ٹام مک کے کا کہنا ہے کہ ہم کسی بات کا جواب نہیں دے رہےمگر ہم سوال ضرور کر رہے ہیں اور ہمیں امید ہے کہ اس سے افغان عوام کو بھی حوصلہ ملے گا اور انہیں معلوم ہوگا کہ مغرب کو اپنی موجودگی کے اثرات کا اندازہ ہے۔

برطانیہ سے امریکہ تک یہ ڈرامے اس امید کے ساتھ پیش کیے جا رہے ہیں کہ تاریخ اپنے آپکو نہیں دہرائے گی۔

XS
SM
MD
LG