رسائی کے لنکس

یہ دھماکا اس قدر شدید تھا کہ کئی کلومیٹر دور کابل میں غیر ملکی سفارت خانوں کی عمارتوں کی کھڑکیاں بھی کھڑکھڑانا شروع ہو گئیں۔

افغانستان کے دارالحکومت کابل میں غیر ملکیوں کے زیر انتظام ایک ’کمپاؤنڈ‘ پر خودکش کار بم حملے میں کم ازکم دو سکیورٹی اہلکار ہلاک ہو گئے۔

وزارت داخلہ کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ منگل کی صبح دارالحکومت کے پل چرخی کے علاقے میں بارود سے بھری ہوئی ایک گاڑی ایک غیر ملکی تنصیب کے مرکزی دروازے سے ٹکرائی۔

طالبان نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

یہ دھماکا اس قدر شدید تھا کہ کئی کلومیٹر دور کابل میں غیر ملکی سفارت خانوں کی عمارتوں کی کھڑکیاں بھی کھڑکھڑانا شروع ہو گئیں۔

جس علاقے میں یہ حملہ ہوا وہاں غیر ملکی کمپنیوں کے دفاتر اور بین الاقوامی فوجی تنصیبات بھی واقع ہیں۔

افغان حکومت کی انٹیلی جنس ادارے کا ایک ذیلی دفتر بھی یہاں قریب ہی میں واقع ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ غیر ملکی دستوں اور افغان حکومتی عہدیداروں پر ایک ایسے وقت میں حملوں میں تیزی آئی ہے جب افغانستان سے بین الاقوامی افواج کے انخلا کا وقت قریب آ رہا ہے۔ ان افواج کے انخلا کے بعد افغان فورسز ہی طالبان باغیوں کے خلاف لڑیں گی۔

اتوار کو افغان قانون ساز شکریہ بارک زئی کابل میں ہونے والے ایک خود کش دھماکے میں بال بال بچ گئیں تھیں۔

یہ دھماکا اس وقت ہوا جب وہ گاڑیوں کے ایک قافلے میں پارلیمان کی طرف جا رہی تھیں۔ اس دھماکے میں تین عام شہری ہلاک ہو گئے تھے۔

XS
SM
MD
LG