رسائی کے لنکس

افغانستان کے جنوبی صوبہ ہلمند سے 27 مسافر اغوا


قندھار میں ایک سکیورٹی اہلکار گاڑیوں کی چیکنگ کے دوران لوگوں کی تلاشی لے رہا ہے۔

قندھار میں ایک سکیورٹی اہلکار گاڑیوں کی چیکنگ کے دوران لوگوں کی تلاشی لے رہا ہے۔

طالبان کے ترجمان کا کہنا تھا کہ جو لوگ معصوم ہیں اُنھیں چھوڑ دیا جائے گا لیکن جو کابل میں سکیورٹی کے اداروں سے وابستہ ہیں اُن کو ’’اسلامک امارات کی عدالت‘‘ یعنی طالبان کی عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

افغانستان میں حکام کے مطابق جنوبی صوبہ ہلمند میں طالبان جنگجوؤں نے گاڑیوں کو روک کر 27 افراد کو اغوا کر لیا ہے۔

طالبان کے ترجمان قاری یوسف احمدی نے ایک بیان میں مسافروں کو اغوا کرنے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ جن 27 مسافروں کو طالبان اپنے ساتھ لے کر گئے اُن سے تفتیش جاری ہے۔

خبر رساں ادارے ’رائیٹرز‘ کے مطابق صوبہ ہلمند کے گورنر کے ترجمان عمر زواک نے کہا کہ گریشک کے علاقے میں بسوں اور کاروں کو روکنے کے بعد طالبان مسافروں کو اپنے ساتھ لے گئے جب کہ 18 خواتین اور بچوں کو چھوڑ دیا گیا۔

جس شاہراہ پر بسوں کو روکا گیا وہ دارالحکومت کابل کو ملک کے جنوبی علاقوں سے ملاتی ہے۔

ترجمان قاری یوسف کا کہنا تھا کہ جو لوگ معصوم ہیں اُنھیں چھوڑ دیا جائے گا لیکن جو کابل میں سکیورٹی کے اداروں سے وابستہ ہیں اُن کو ’’اسلامک امارات کی عدالت‘‘ یعنی طالبان کی عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

حالیہ ہفتوں میں افغانستان میں تواتر کے ساتھ اغوا کرنے کے واقعات سامنے آ چکے ہیں جن میں لگ بھگ 200 افراد کو ملک کی اہم شاہراہوں پر گاڑیوں کو روک کر اغوا کیا گیا، جن میں سے بعد ایک درجن سے زائد افراد کو قتل کیا گیا۔

افغانستان میں انسانی حقوق کے ایک سرگرم کارکن لال گل لال نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ اہم شاہراہوں پر گاڑیاں روک کر مسافروں کو اغوا کرنا یقیناً باعث تشویش ہے۔

’’میرے خیال میں حکومت کی یہ ذمہ داری ہے کہ ناصرف شاہراہوں پر زیادہ چوکیاں قائم کی جائیں بلکہ فضائیہ کی مدد سے بھی شاہراہوں کی نگرانی کی جائے تاکہ مسافر محفوظ طریقے سے اپنی منزل تک پہنچ سکیں۔‘‘

واضح رہے کہ 21 مئی کو پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں ایک ڈرون حملے میں افغان طالبان کے سربراہ ملا اختر منصور کے مارے جانے کے باوجود افغان طالبان کی کارروائیاں اسی شدت سے جاری ہیں۔

ملا اختر منصور کے بعد ملا ہبت اللہ اخونزادہ کو طالبان کا نیا سربراہ بنایا گیا تھا۔

ایک روز قبل ہی کابل اور صوبہ بدخشاں میں خودکش بم حملوں میں لگ بھگ 24 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے تھے۔

کابل میں ہونے والے خودکش بم حملے میں کینیڈا کی ایک کمپنی کی بس کو نشانہ بنایا گیا تھا جس میں کمپنی کے لیے کام کرنے والے 14 نیپالی گارڈز مارے گئے۔

XS
SM
MD
LG