رسائی کے لنکس

افغانستان: طالبان کا شدت پسندی کی نئی کارروائیوں کا انتباہ


صدر کرزئی اور جنرل میک کرسٹل ایک بریفنگ کے دوران (فائل فوٹو)

صدر کرزئی اور جنرل میک کرسٹل ایک بریفنگ کے دوران (فائل فوٹو)

ایسے وقت جب افغان صدر حامد کرزئی امریکہ سفر کرنے والے ہیں، طالبان نے افغانستان میں تشدد کی نئی کارروائیان شروع کرنے کی دھمکی دی ہے۔

جنگ جوؤں کا کہنا ہے کہ وہ پیرکے دِن سے افغان، نیٹو افواج اور غیر ملکی ٹھیکے داروں کو ہدف بنانا شروع کردیں گے، جِس روز مسٹر کرزئی واشنگٹن میں ملاقاتوں کا آغاز کرنے والے ہیں۔

مسٹر کرزئی کو توقع ہے کہ طالبان کے ساتھ ممکنہ امن مذاکرات کے لیے امریکی صدر براک اوباما کی حمایت حاصل کرلیں گے۔ شدت پسند گروپ نے مذاکرات کے بارے میں مسٹر کرزئی کی پیش کش کو بارہا مسترد کیا ہے۔

جنوبی صوبہٴ قندھار میں مجوزہ کارروائی کا آغاز کرنے کی غرض سے، جو طالبان کا گڑھ ہے، امریکہ ملک میں ہزاروں فوجی بھیجنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

ہفتے کو اخبار ‘دِی واشنگٹن پوسٹ ’ کے ایک مضمون میں مسٹر کرزئی نے کہا ہے کہ امریکہ اور اُس کے اتحادیوں کو افغانستان میں میلوں دور تک کا سفر کرنا باقی ہے، اور بین الاقوامی افواج کو ابھی ملک کے کثیر رقبے کو محفوظ بنانا ہے۔

صدر اوباما نے کہا ہے کہ وہ اگلے سال سے امریکی افواج کی ملک واپسی شروع کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG