رسائی کے لنکس

طالبان امن مذاکرات کے لیے تیار ہیں: برہان الدین ربانی


طالبان امن مذاکرات کے لیے تیار ہیں: برہان الدین ربانی

طالبان امن مذاکرات کے لیے تیار ہیں: برہان الدین ربانی

افغانستان کی نئی امن کونسل کے سربراہ نے کہاہے کہ طالبان ملک میں جاری نو سالہ جنگ کے خاتمے کے لیے بات چیت پر تیار ہیں۔

سابق افغان صدر برہان الدین ربانی نے کابل میں نامہ نگاروں کو بتایا کہ شورش پسند تنظیموں نے کبھی بھی مذاکرات سے کلیتا انکار نہیں کیا تھا اور ان کاامن کے لیے شرائط پر اصرار تھا۔

اس ہفتے کے شروع میں افغان صدر حامد کرزئی نے یہ تسلیم کیا تھا کہ ان کی حکومت کی طالبان کے ساتھ غیر رسمی بات چیت ہوئی ہے۔ لیکن عسکریت پسند تنظیم نے اس طرح کی کسی بات چیت میں اپنے راہنماؤں کی شرکت سے انکار کیا۔ طالبان مذاکرات کے آغاز سے قبل تمام بین الاقوامی فوجیوں کی افغانستان سے رخصتی کا مطالبہ کرچکے ہیں۔

صدر کرزئی کے ایک اعلی مشیر نے جمعرات کے روز نیٹو پر امن کے عمل کی مدد کرنے پر زور دیا۔ محمد معصوم نے نیٹو فورسز سے اپیل کی کہ جن علاقوں کے طالبان بات چیت شروع کرنے پر تیار ہیں، وہاں فوجی کارروائیوں میں نرمی کی جائے۔

نیٹو کے ایک عہدے دار نے بدھ کو کہا کہ ان کے اتحاد نے طالبان کمانڈروں کو کابل جانے کے لیے ایک محفوظ راستے کی فراہمی میں مدد کی تھی اور اس طرح کی دورے نیٹو کی اجازت کے بغیر بہت مشکل ہیں۔

2001ء میں امریکی قیادت میں افغانستان پر حملے کے بعد سے، یہ سال اتحادی افواج کے لیےسب سے زیادہ ہلاکت خیز ثابت ہورہاہے۔ نیٹو کا کہنا ہے کہ جمعرات کے روز مختلف حملوں میں اس کے سات ارکان ہلاک ہوگئے ۔

نیٹو کمانڈرشورش پسندوں کے خلاف افغان اور اتحادی افواج کی کارروائی کے نتیجے میں تشدد کے واقعات میں اضافے سے خبردار کرچکے ہیں۔ اس مہینے میں اب تک نٹیو کے 35 سے زیادہ ارکان ہلاک ہوچکے ہیں۔

جمعرات کے روز لٹویا نے اعلان کیا کہ ان کا ملک افغانستان میں تعینات نٹیو فورسزمیں اپنے ملک کی شراکت میں ایک سال کی توسیع کررہاہے۔ افغانستان میں لٹویا کے 175 فوجی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔

XS
SM
MD
LG