رسائی کے لنکس

طالبان مذاکرات کی میز پر آئیں: افغان امن کونسل


امن کے لیے قائم کردہ اعلیٰ ادارے کے ترجمان قیام الدین کشاف کونسل کے اجلاس کے بعد صحافیوں سے باتوں کے دوران

امن کے لیے قائم کردہ اعلیٰ ادارے کے ترجمان قیام الدین کشاف کونسل کے اجلاس کے بعد صحافیوں سے باتوں کے دوران

افغان حکومت کی قائم کردہ نئی امن کونسل نے طالبان سے افغانستان میں نو سالہ جنگ کے خاتمے کے لیےتشدد ترک کرنے اور مذاکرات میں شریک ہونے کے لیے کہا ہے۔

امن کے لیے قائم کردہ اعلیٰ ادارے کے ترجمان قیام الدین کشاف نے جمعرات کے روز کہا کہ 70 رکنی کونسل ، قیام امن کے لیے شورش پسند نتظیموں کے قانونی مطالبات سنے گی۔ طالبان مذاکرات کے لیے ایک شرط کے طورپر بین الاقوامی فوجیوں کے ملک سے انخلا کا مطالبہ کرچکے ہیں ۔

کشاف نے سعودی عرب سے مذاکرات میں مدد ینے کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شورش پسند تنظیموں کو امن کے عمل میں شریک کرنے کے لیے سعودی حکمران شاہ عبداللہ کو طالبان پر اپنا اثرو رسوخ استعمال کرنا چاہیے۔

سعودی عرب ان تین ممالک میں سے ایک ہے جس نے 1990 کی دہائی کے آخر ی حصے میں قائم ہونے والی طالبان کی حکومت کو تسلیم کیاتھا۔ دوسرے دو ملک پاکستان اور متحدہ عرب امارات تھے۔

ایسے میں جب کہ افغان راہنما طالبان کے ساتھ امن مذاکرات کی کوششیں کررہے ہیں، بین الاقوامی فورسز اور افغان فوجی دستے ملک کے جنوب میں واقع طالبان کے مضبوط گڑھ قندھار سے انہیں پیچھے دھکیلنے کے لیے اپنی فوجی مہم جاری رکھے ہوئے ہیں۔

افغان عہدے داروں کا کہنا ہے کہ دومہینے سے زیادہ عرصے پہلے شروع ہونے والی کارروائی شورش پسندوں کو علاقہ چھوڑنے پر مجبور کررہی ہے۔

قندھار کی صوبائی کونسل کے سربراہ احمد ولی کرزئی نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ اس مقصد میں کامیابی حاصل ہوئی ہے اور کافی تعداد میں عسکریت پسندوں کو یا تو ہلاک کردیا گیا ہے یا انہیں گرفتار کرلیا گیا ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ اب قندھار میں طالبان کا کوئی ایک مرکز بھی باقی نہیں رہا۔

XS
SM
MD
LG