رسائی کے لنکس

افغانستان میں باغی گروپوں سے بات چیت

  • آمنہ خان

افغانستان کے بارے میں کئی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ وہاں قیام امن کے لیے مصالحت پر آمادہ مختلف جنگ جو گروپس سے مذاکرات کرنا وقت کا ایک تقاضا ہے، جس کی پاکستان بھی حمایت کرتا ہے، جب کہ دوسری جانب وزیر خارجہ ہلری کلنٹن نے ، جو حال ہی میں کابل میں ہونے والی ڈونرز کانفرنس موقع پرعلاقے کے دورے پر تھیں ،صدر کرزئی کو طالبان اور القاعدہ جیسے عسکریت پسند گروپوں سے بات چیت سے خبردار کیا ۔ادھر مریکی حلقوں میں بھی اس حوالے سے بحث مباحثے کا سلسلہ جاری ہے۔

افغانستان میں طالبان گروہوں کی کارروائیوں اور افغان شہریوں کے خلاف دہشت گرد حملوں میں اضافے کے پیش نظر افغان صدر حامد کرزئی وہاں قومی مصالحتی عمل شروع کرنے پر زور دے رہے ہیں اور انہوں نے چند طالبان لیڈروں سے مذاکرات میں دلچسپی بھی ظاہر کی ہے۔

واشنگٹن میں بعض ماہرین کہتے ہیں کہ مذاکرات کے ذریعے وقتی طورپرتشدد میں کمی لائی جا سکتی ہے۔امریکن یونیورسٹی کے انتھونی وانی سینٹ جان کے مطابق افغانستان میں مصالحت کے عمل میں ہتھیار ڈالنے پرآمادہ عناصر اور ناقابل مصالحت گروہوں کے درمیان تفریق کرنا بہت ضروری ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ میں سمجھتا ہوں کہ اب تک طالبان کچھ ایسے اختیارات کی توقع میں مذاکرات پر آمادہ ہوئے ہیں جنہیں وہ اپنے ہتھیاروں کے بل پر حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ مذاکرات کے دوران اپنے حریف کی توقعات کا اندازہ لگانے اور ان کا جواب دینے کے لیےکوئی ٹھوس حکمت عملی ضرور ہونی چاہیے۔ کچھ طالبان مصالحت کے خواہشمند ہیں، جبکہ دوسرے طالبان کے نظریات بہت پختہ ہیں اور ان دونوں میں بہت فرق ہے۔

پچھلے ماہ صدر کرزائی نے کابل میں سولہ سو مندوبین کے ایک جرگے کے سامنے قومی مصالحتی عمل کے لیے کچھ تجاویز پیش کی تھیں، لیکن افغان طالبان کی قیادت نے اس جرگے میں شرکت کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ تجزیہ کار اور مصنف اوڈری کرتھ کرونن کہتی ہیں کہ کسی تیسری پارٹی کی شمولیت کے بغیر افغان طالبان راہنماوں کے ساتھ مذاکرات کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔ لیکن مذاکرات نچلی سطح کے طالبان جنگجووں کے ساتھ انفرادی طور پر بھی کیے جا سکتے ہیں۔

لیکن بعض ماہرین کے مطابق طالبان سے مذاکرات کی راہ میں اصل رکاوٹ یہ ہے کہ وہ مختلف گروہوں میں بٹے ہوئے ہیں اور کوئی ایک گروہ کسی دوسرےکی نمائندگی نہیں کر سکتا۔

تجزیہ کار پال پلار کا کہنا ہے کہ طالبان ایک متحدہ گروہ نہیں۔ کوئٹہ شوری کو بھی ان تمام طالبان کا نمائندہ نہیں کہا جا سکتا جو افغانستان میں تشدد کے ذمہ دار ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ طالبان کے ساتھ مصالحت کے منصوبے میں سب سے بڑا چیلنج یہی ہو گا۔ افغانستان میں بہت سے ایسے خود مختار عناصر بھی موجود ہیں جنہیں طالبان کے ساتھ ملا دیا جاتا ہے۔ یعنی دوسری جانب کوئی ایک ایسا گروہ نہیں ہے جو تشدد پر مبنی کارروائیوں کے لیے جواب دہ ہو۔

ماہرین کے مطابق طالبان کے ساتھ مصالحت اور مذاکرات کے منصوبے میں پاکستان اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ اور پاکستان نے بھی صدر حامد کرزئی کے قومی مصالحتی منصوبے کی حمایت کی ہے۔ لیکن تجزیہ کاروں کے مطابق اگر جنرل پیٹریس کےمشورے کو مد نظر رکھتے ہوئے حقانی گروپ پر دہشت گرد تنظیم کا لیبل لگا دیا جاتا ہے، تو صورت حال مختلف بھی ہو سکتی ہے ۔

XS
SM
MD
LG