رسائی کے لنکس

افغانستان: عدالت عظمیٰ کا اعلیٰ عہدیدار قتل


فائل فوٹو

فائل فوٹو

کابل میں حالیہ ہفتوں کے دوران شدت پسندوں کی طرف سے سرکاری و غیر ملکی املاک، سکیورٹی فورسز اور عہدیداروں پر حملوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

افغانستان میں طالبان شدت پسندوں نے فائرنگ کر کے ملک کی عدالت عظمیٰ کے ایک اعلیٰ عہدیدار کو ہلاک کر دیا ہے۔

کابل پولیس کے سربراہ کے ترجمان حشمت ستنکزئی کے مطابق عدالت عظمیٰ کے سیکریٹریٹ کے سربراہ عتیق رؤفی ہفتہ کو اپنے گھر سے دفتر جانے کے لیے نکلے تو حملہ آوروں نے ان پر اندھا دھند فائرنگ کر دی جس سے وہ ہلاک ہو گئے۔

طالبان نے اس قتل کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

کابل میں حالیہ ہفتوں کے دوران شدت پسندوں کی طرف سے سرکاری و غیر ملکی املاک، سکیورٹی فورسز اور عہدیداروں پر حملوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

دو روز قبل کابل میں شدت پسندوں نے ایک خودکش بم دھماکا کر کے کم ازکم چھ افغان فوجیوں کو ہلاک کر دیا جب کہ اسی شام کابل میں فرانس کے تعاون سے چلنے والے ایک اسکول میں خودکش حملہ کیا جس سے حکام کے بقول ایک جرمن شہری ہلاک ہو گیا۔

طالبان اشرف غنی کی حکومت کے خلاف ہیں اور انھوں نے اسے کمزور کرنے کے لیے اپنی کارروائیوں میں اضافہ ایک ایسے وقت کیا ہے جب رواں ماہ کے اواخر تک ملک سے بین الاقوامی افواج کا انخلا مکمل ہونے جا رہا ہے۔

مبصرین غیر ملکی افواج کے افغانستان سے واپسی کے تناظر میں یہاں سکیورٹی کی صورتحال پر تحفظات کا اظہار کرتے آ رہے ہیں۔

اسی تناظر میں ایک معاہدے کے تحت نیٹو اور امریکہ کے تقریباً 12 ہزار فوجی 2014ء کے بعد بھی افغانستان میں رہ کر مقامی سکیورٹی فورسز کی تربیت اور انسداد دہشت گردی میں ان کی معاونت کرتے رہیں گے۔

XS
SM
MD
LG