رسائی کے لنکس

افغانستان سے برطانوی فوجیوں کا انخلا آئندہ سال ممکن


افغانستان سے برطانوی فوجیوں کا انخلا آئندہ سال ممکن

افغانستان سے برطانوی فوجیوں کا انخلا آئندہ سال ممکن

برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے آئندہ سال برطانوی فوجیوں کے افغانستان سے انخلا کے آغاز کا عندیہ دیاہے۔

منگل کو دارالحکومت کابل میں افغان صدر حامد کرزئی کے ساتھ مشترکہ نیوز کانفرنس سے خطاب میں مسٹر کیمرون کا کہنا تھا کہ اُن کی خواہش ہے کہ برطانیہ کے تمام لڑاکا فوجی 2014ء کے اواخر تک وطن واپس لوٹ جائیں۔

تاہم برطانوی فوجی کمانڈروں کے مطابق آئندہ برس کے اوائل میں افغانستان سے بڑی تعداد میں برطانوی فوجیوں کے انخلا کے امکانات کافی حد تک محدود نظر آتے ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ واپسی کے عمل کا دارومدار زمینی حقائق اور افغان افواج کی سکیورٹی ذمہ داریاں سنبھالنے کی استعداد پر ہوگا۔

برطانوی وزیر اعظم کابل کا غیر اعلانیہ دورہ کر رہے ہیں اور یہ اُن کا افغانستان کا چھٹا دورہ ہے۔

برطانوی وزیراعظم

برطانوی وزیراعظم

افغان اور برطانوی رہنماؤں نے وکی لیکس کے اُن حالیہ انکشافات پر بھی اظہار خیال کیا جن کے مطابق امریکہ اور افغان صدر نے صوبہ ہلمند میں مطلوبہ اہداف حاصل نا کرنے پر برطانوی فوج پر تنقید کی ہے جب کہ افغان وزیر خارجہ نے مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ برطانوی فوجی امریکیوں کی طرح لڑائی میں حصہ لینے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کا کہنا تھا کہ اب یہ واضح ہو گیا ہے کہ ہلمند میں برطانوی فوجیوں کی تعداد ضرورت سے کم ہے۔

تاہم صدر کرزئی نے کہا کہ ”برطانیہ افغانستان اور اس کی عوام کا ثابت قدم حامی ہے۔“

افغانستان میں تعینات بین الاقوامی افواج میں امریکہ کے بعد سب سے زیادہ تعداد برطانوی فوجیوں کی ہے۔

گذشتہ ماہ لزبن میں ہونے والے اجلاس میں نیٹو کے رہنماؤں نے صدر کرزئی کے تجویز کردہ نظام الاوقات پراتفاق کیا تھا کہ غیر ملکی فوجی 2014ء کے اختتام تک افغانستان میں لڑاکا کارروائیاں ختم کر دیں ۔

ادھر امریکی وزیردفاع رابرٹ گیٹس بھی ملکی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے منگل کو کابل کے قریب بگرام ائر بیس پہنچے ہیں۔ ان کے دورے کامقصد افغانستان کی موجودہ صورتحال سے صدر اوباما کو آگاہ کرنا ہے جو امریکی جنگی حکمت عملی کا جائزہ لینے جارہے ہیں۔

XS
SM
MD
LG