رسائی کے لنکس

اقوام متحدہ کے قندھارمیں دفاتر عارضی طور پر بند

  • ب

اقوام متحدہ کے قندھارمیں دفاتر عارضی طور پر بند

اقوام متحدہ کے قندھارمیں دفاتر عارضی طور پر بند

اقوام متحدہ نے افغان صوبے قندھار سے اپنے غیر ملکی عملے کو نکال کر دفاتر عارضی طور پر بند کردیے ہیں۔ عالمی ادارے کی ایک ترجمان سوزین مینوئلSusan Manuelکا کہنا ہے کہ غیر ملکی عملے کو دارالحکومت کابل منتقل کردیا گیا ہے جب کہ مقامی ملازمین کو اپنے گھروں پر رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ ترجمان کے مطابق یہ اقدام علاقے میں سکیورٹی کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے پیش نظرکیا گیا ہے۔

ترجمان نے اس اُمید کا بھی اظہار کیا ہے کہ یہ ایک عارضی اقدام ہے اور عالمی ادارے کے لوگ جلد واپس جا کر اپنا کام شروع کردیں گے۔ تاہم سوزین نے دفاتر کی بندش کی مزیدوجوہات نہیں بتائیں۔

واضح رہے کہ شمالی افغانستان کا یہ صوبہ طالبان جنگجوؤں کا گڑھ سمجھا جاتا ہے اورملک میں تقریباً نو سال سے موجود اتحادی افواج مقامی فوجوں کے ساتھ مل کر آئندہ مہینوں میں اس علاقے میں سب سے بڑی فوجی کارروائی کا منصوبہ بنارہی ہیں۔

گذشتہ چند ہفتوں کے دوران قندھار کے مختلف علاقوں میں طالبان جنگجوؤں کی طرف سے پرتشدد کارروائیوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جہاں بم دھماکے تقریباً روز کا معمول بن گئے ہیں۔ ایسے ہی ایک واقعے میں گذشتہ ہفتے نائب میئر بھی ہلاک ہوگئے تھے۔

قندھار کی صوبائی کونسل کے سربراہ احمد ولی کرزئی نے اقوام متحدہ کی طرف سے دفاتر بند کیے جانے پر کڑی تنقید کی ہے۔ ایک نیوزکانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اُنھوں نے مقامی حکام سے مشورے کے بغیر کیے جانے والے اس اقدام کو غیر منطقی فیصلہ قرار دیا۔

ولی کرزئی کا کہنا تھا کہ یہاں صورتحال اتنی بری نہیں جتنی یہ عالمی ادارہ سمجھتا ہے۔ ان کے بقول ”اقوام متحدہ یہاں کسی پارٹی کے لیے موجود نہیں اور انھیں معلوم ہے کہ وہ جنگی علاقے میں ہیں“۔ اُنھوں نے کہا کہ اس اقدام سے قندھار کے شہریوں کو ایک برا پیغام ملے گا۔

اقوام متحدہ نے گذشتہ سال کابل میں ایک گیسٹ ہاؤس پر ہونے والے بم دھماکے کے بعد بھی اپنے غیر ملکی عملے کو افغانستان سے نکال لیا تھا۔ اس دھماکے میں عالمی ادارے کے پانچ غیر ملکی اہلکار ہلاک ہوگئے تھے۔

XS
SM
MD
LG