رسائی کے لنکس

ایسے حالات میں جب افغانستان میں پہلے ہی قرآن کے نذرآتش کئے جانے اور لاشوں کی بے حرمتی جیسے سلسلہ وار واقعات کے بعد اشتعال پایا جاتا ہے، ایک امریکی فوجی کے ہاتھوں افغانوں کے قتل عام کی خبردہشت انگیز ہے۔ تاہم ایسے واقعات کے ردعمل میں امریکہ کا ہنگامی طور پر افغانستان سے نکل آنا ملک کو ایک بار پھر خانہ جنگی کی جانب دھکیل سکتا ہے۔

ان خیالات کا اظہارواشنگٹن میں قائم تھنک ٹینک یونائیٹڈ سٹیٹس انسٹیٹیوٹ آف پیس کے افغانستان اور پاکستان پروگرامز کے ڈائریکٹر اینڈریو وائلڈر نے وائس آف امریکہ اردو ریڈیو سے ایک خصوصی انٹرویو میں کیا۔

افغانوں کے قتل عام کے ممکنہ اثرات کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ’’ اس واقعے کے کثیرالجہتی اثرات ہیں۔ خاص طور پر افغان حکومت اور بین الاقوامی فورسز کے درمیان عدم اعتماد کی فضا پیدا ہوگی، اورایسے میں جب ہم اپنی فوجیں افغانستان سے نکال رہے ہیں، اس ملک کے لیے ہماری مستقبل کی حکمت عملی کا انحصار ہی افغان حکومت کے ساتھ اعتماد پر ہے۔ اس کے علاوہ دوسرا بڑا اثر امریکہ اور افغانستان کے درمیان دفاعی شراکت داری کے لیے جاری مذاکرت پر ہوگا اور پھر اس واقعہ کا ایک پریشان کن اثر امریکہ پر ہوگا۔ جتنی بری خبریں افغانستان سے آئیں گی، بہت سے امریکی شہریوں اور سیاستدانوں کے ذہن میں موجود اس خیال کی تائید ہو گی کہ امریکی فوجوں کو جلد ازجلد افغانستان سے نکل آنا چاہیے۔ اور میرا ذاتی خیال ہے کہ ایسے حالات میں ہنگامی طور پر امریکہ کا افغانستان سے انخلا وہاں خانہ جنگی کا سبب بن سکتا ہے‘‘۔

اینڈریو وائلڈر

اینڈریو وائلڈر

اس سوال کے جواب میں کہ کیا حالیہ سلسلہ وار واقعات امریکہ کے افغانستان سے پرامن انخلا کو سبوتاژ کرسکتے ہیں، اینڈریو وائلڈر نے کہا کہ وائٹ ہاؤس واضح کر چکا ہے افغانستان کے لیے امریکی حکمت عملی تبدیل نہیں ہو گی لیکن ایسے مطالبات میں شدت آ سکتی ہے کہ امریکی فوجیں جلد از جلد افغانستان چھوڑ دیں۔ کیونکہ پہلے ہی اس بارے میں مختلف فورمز پر مباحثہ ہورہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میرے خیال میں واشنگٹن کو اپنی حکمت عملی پر کاربند رہنا چاہیے اورانخلا کے نظام الاوقات میں ہنگامی تبدیلیاں نہیں لانی چاہیں۔

کیا یہ واقعہ ایک فوجی کے ذاتی رویے کا عکاس ہے یا اس کے پیچھے کوئی خاص ایجنڈا ہو سکتا ہے جیسا کہ قیاس آرائیاں ہو رہی ہیں۔ اس سوال کے جواب میں تھنک ٹینک یونائیٹڈ سٹیٹس انسٹیٹیوٹ آف پیس کے افغانستان اور پاکستان پروگرامز کے ڈائریکٹر اینڈریو وائلڈر نے کہا کہ افغان شہریوں کے قتل عام میں ملوث امریکی فوجی کا یہ اقدام انفرادی ہے اور اس کے پیچھے کوئی خاص سوچ کار فرما نہیں ہو سکتی۔

’’ میں ایسے کسی سازشی نظریے پر یقین نہیں رکھتا کہ یہ ایک سوچا سمجھا اقدام ہو۔ واضح طور پریہ انتشارکے شکار ایک فوجی کا انتہائی اشعال انگیزاقدام ہے۔ اسی طرح قرآن کے نذرآتش ہونے کا واقعہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ امریکی فوجی معاملے کی حساسیت سے آشنا نہ تھے۔ یقینا ہم شہریوں کو ہلاک کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے لیکن حالت جنگ میں بعض اوقات ایسے واقعات پیش آ جاتے ہیں۔ اور بدقسمتی سے بہت سی خراب چیزیں تواتر سے ہوتی رہتی ہیں۔ اسی لیے میں سمجھتا ہوں کہ ہمیں تنازع کے حل کے لیے سیاسی تصفیے پر زیادہ توجہ دینی چاہیے‘‘۔

کیا افغانستان اور اس خطے میں موجود لوگ یہ یقین کرسکتے ہیں کہ افغانوں کے قتل میں ملوث امریکی فوجی کو ایک شفاف ٹرائل سے گزار کر انصاف کے تقاضے پورے کیے جائیں گے؟ اس سوال پر اینڈریو وائلڈرنے کہا کہ بالکل ایسا ہی ہوگا۔

’’جی مجھے یقین ہے کہ ایسا ہی ہوگا۔ صدراوباما اور فوجی قیادت پہلے ہی کہہ چکی ہے کہ واقعے کی مکمل تحقیقات ہوں گی، اورامریکی فوجی قوانین کے تحت ذمے دار امریکی فوجی کو کیفرکردار تک پہنچایا جائے گا لیکن اس کے لیے تھوڑا انتظار کرنا ہوگا کہ تحقیقات مکمل ہوں کچھ وقت تو لگے گا‘‘۔

دوسری جانب امریکہ کے ایک اور معروف تھنک ٹینک ’’دا ہیریٹج فاؤنڈیشن‘‘ سے وابستہ تجزیہ کار لیزا کرٹس نے اپنے ایک تجزیے میں کہا ہے کہ امریکی انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ 16 افغان شہریوں کے قتل کے ذمے داران کو فوری طور پر کیفرکردار تک پہنچائے۔ ان کے خیال میں حالیہ واقعات کے پس منظر میں فوری انخلا درست نہ ہو گا بلکہ وہ کہتی ہیں کہ ایسے میں جب طالبان یہ محسوس کر رہے ہوں کہ امریکہ جلد افغانستان سے انخلا کرسکتا ہے ان کے ساتھ مذاکرات ایک کمزور حکمت عملی ہیں۔

لیزا کرٹس

لیزا کرٹس

لیزاکرٹس کے مطابق طالبان کے ساتھ رورعایت ایک عام افغان شہری کو تاثر دے گی کہ امریکی انخلا کے بعد طالبان کا حکومت میں آنا نوشتہ دیوار ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ امریکہ کو مذاکرات کے بجائے دیگر طریقے تلاش کرنے چاہیں جو اس بات کو یقینی بناتے ہوں کہ افغانستان ایک بار پھر دہشتگردوں کی جنت نہیں بن پائے گا۔

XS
SM
MD
LG