رسائی کے لنکس

افغانستان کے صدر حامد کرزئی نے مطالبہ کیا ہے کہ اُن کے ملک اور امریکہ کے درمیان طویل المدت شراکت داری کےمجوزہ معاہدے میں واشنگٹن کو واضح طور پر یہ بتانا ہوگا کہ آنے والے برسوں میں افغان افواج کو کتنی رقم دی جائے گا۔

کابل میں ایک تقریب سے خطاب میں افغان صدر نے یہ مطالبہ ایک ایسے وقت کیا ہے جب مجوزہ معاہدے پر ہونے والی بات چیت میں فریقین بظاہر اتفاق رائے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔

’’بے شک وہ ہمیں پیسے دے رہے ہیں۔ لیکن اُن (امریکہ) کا کہنا ہے کہ وہ معاہدے میں رقم کا ذکر نہیں کریں گے۔ ہم کہتے ہیں کہ کم دیں مگر سمجھوتے میں اسے تحریری طور پر شامل کریں۔‘‘

صدر کرزئی نے کہا کہ مذاکرات میں امریکی اس بات کی یقین دہانی کرارہے ہیں کہ مستقبل میں مالی امداد میں اضافہ کیا جائے گا۔

’’مگر ہم انھیں بتا رہے ہیں کہ آپ آج معاہدے میں تحریر کردیں کہ امریکہ افغان فورسز کے لیے سالانہ کم از کم دو ارب ڈالر دے گا۔ اگر امریکہ اس رقم میں اضافہ کرنا چاہے گا تو کم ازکم لکھ دینے سے کسی بھی مرحلے پر معاہدے میں تبدیلی کی گنجائش رہے گی۔‘‘

یہ مجوزہ سمجھوتہ افغانستان سے انخلا کی امریکی حکمت عملی کے لیے ناگزیر سمجھا جا رہا ہے۔ امریکی حکام نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ اس کی بدولت افغانستان سے لڑاکا افواج کی 2014ء میں واپسی کے بعد ملک میں موجود باقی کی امریکی فوج کا دائرہ اختیار واضح ہوگا اورافغان عوام کو یہ اعتماد بھی رہے گا کہ اُن کےسب سے بڑے اتحادی نے انھیں تنہا نہیں چھوڑا ہے۔

لیکن معاہدے پردستخط میں تاخیر کی وجہ صدر کرزئی کی طرف سے ٹھوس اور واضح امریکی وعدوں پر اصرار رہا ہے۔

XS
SM
MD
LG