رسائی کے لنکس

افغانستان کے مستقبل کے بارے سابق اعلیٰ امریکی عہدیداروں کی رائے

  • آندرے ڈیننسیرا

افغانستان کے مستقبل کے بارے سابق اعلیٰ امریکی عہدیداروں کی رائے

افغانستان کے مستقبل کے بارے سابق اعلیٰ امریکی عہدیداروں کی رائے

اقوامِ متحدہ کے تفویض کردہ اختیارات کے تحت کام کرنے والی 130,000 سپاہیوں پر مشتمل یہ فورس ’’انٹرنیشنل سکیورٹی اسسٹنس فورس‘ یا (ISAF) کہلاتی ہے۔ افغانستان میں نیٹو کے تین مقاصد ہیں۔ پہلا مقصد تو صدر حامد کرزئی کی مدد کرنا ہے تا کہ وہ ملک میں تعمیرِ نو کر سکیں اور اسے مستحکم کر سکیں۔ دوسرا مقصد افغان فوج اور پولیس کو تربیت دینا ہے اور تیسرا مشن یہ ہے کہ باغیوں کا پتہ چلایا جائے اور ان کا صفایا کر دیا جائے، خاص طور سے جنوبی افغانستان میں، جو طالبان کا گھر ہے۔

2001 میں امریکہ کی زیرِ قیادت فوجوں نے طالبان کی حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا۔

امریکہ اور نیٹو کا ہدف یہ ہے کہ 2014 کے آخر تک جنگی کارروائیاں افغان فورسز کے حوالے کر دی جائیں۔ لیکن اقوامِ متحدہ میں امریکہ کے سابق سفیر جان بولٹن کو یقین نہیں کہ افغان سیکورٹی اور مسلح افواج اس ذمہ داری کا بوجھ اٹھا سکیں گی۔ ’’میں نہیں سمجھتا کہ وہ یہ ذمہ داری اٹھانے کے قابل ہوں گی۔ لیکن اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ ان کی تربیت میں کمی ہوگی یا ان کے پاس ضروری ساز و سامان نہیں ہو گا۔ میرے خیال میں یہاں پالیسی میں ایک بنیادی نقص ہے۔ ہم افغانستان کو ایک ایسی مملکت سمجھ رہے ہیں جیسے وہ کہیں مغربی یورپ میں واقع ہو، جب کہ ایسا نہیں ہے۔ لہٰذا مسئلہ افغان حکومت کی صلاحیت کا نہیں ہے بلکہ یہ ہے کہ طالبان اور القاعدہ کا خطرہ مسلسل موجود ہے۔ اور آثار ایسے ہیں کہ یہ خطرہ باقی رہے گا چاہے کاغذ پر افغان حکومت 2014 یا 2015 میں کتنی ہی اہل کیوں نہ معلوم دیتی ہو‘‘۔

طالبان نے حال ہی میں اعلان کیا کہ وہ قطر میں اپنا ایک سیاسی دفتر کھولیں گے۔ بعض ماہرین کہتے ہیں کہ اس کے نتیجے میں بالآخر ابتدائی بات چیت شروع ہوگی اور پھر امن مذاکرات ہوں گے۔ لیکن قومی سلامتی کے سابق مشیر جنرل برینٹ سکوکرافٹ کہتے ہیں کہ ہمیں بہت محتاط رہنا چاہیئے۔’’ہمارے لیے طالبان کے ساتھ مذاکرات کرنا بہت مشکل کام ہے۔ وہ ہمیں وہاں سے نکالنا چاہتے ہیں۔ لہٰذا ہم جس چیز پر بھی مذاکرات کریں، وہ کامیاب ہوں گے۔ ہم چاہتے ہیں کہ وہ دہشت گردی کا سہارا نہ لیں اور القاعدہ کے لیے پناہ گاہ نہ بنیں۔ لیکن ہم جیسے ہی وہاں سے نکلیں گے ہمیں ان پر کوئی کنٹرول نہیں رہے گا۔ لہٰذا یہ مذاکرات یکطرفہ رہیں گے‘‘۔

سابق وزیرِ دفاع ویلئیم کوہن کہتے ہیں کہ باغیوں کے ساتھ مذاکرات کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ آپ طالبان کے کس دھڑے کی بات کر رہے ہیں۔ ’’اگر یہ وہ طالبان ہیں جو اپنے ہتھیار ڈالنے اور پُر امن حل کے لیے کام کرنے کو تیار ہیں تو ان سے کم از کم بات ہو سکتی ہے۔ میرے خیال میں یہ کام بڑا مشکل ہو گا کیوں کہ ماضی میں بہت سے لوگ طالبان کے ظلم و زیادتی کا شکار ہو چکے ہیں اور وہ پھر اس دنیا میں واپس جانا نہیں چاہتے۔ لہٰذا طالبان کے بارے میں لوگوں کا تاثر کیا ہے اور ان کا رویہ کیا رہتا ہے اس کی روشنی میں ہی مستقبل میں ان کے کسی رول کا تعین ہو سکتا ہے‘‘۔

بولٹن، کوہن اور اسکوکرافٹ کا خیال ہے کہ افغانستان کے تنازعے کی کسی بھی حل میں پاکستان کو شامل کیا جانا چاہیئے۔ جنرل اسکوکرافٹ کہتے ہیں کہ امریکہ کو پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات مستحکم کرنے کے لیے سخت محنت کرنی چاہیئے۔

’’پاکستان کے قیام کے وقت سے ہی جب ہم اس کی سیکیورٹی کا سب سے بڑا ذریعہ تھے اس کے ساتھ ہمارے تعلقات میں نشیب و فراز آتے رہے ہیں۔ پاکستانیوں کا نقطۂ نظر یہ ہے کہ ہم نے انہیں کئی بار بے یار و مددگار چھوڑ دیا ہے۔ لہٰذا انہیں امریکہ پر اعتماد کرنے میں بہت زیادہ تامل ہے۔ لیکن ایک ایسے علاقے کے قیام کے لیے جو ہماری کم از کم ضروریات پوری کرتا ہو ہمارے لیے ایک نسبتاً مستحکم اور خوشحال پاکستان ضروری ہے‘‘۔

گذشتہ نومبر میں امریکہ اور پاکستان کے درمیان تعلقات اس وقت تیزی سے خراب ہو گئے جب نیٹو کے ایک حملے میں تقریباً دو درجن پاکستانی سپاہی ہلاک ہو گئے ۔ اسلام آباد نے اس کے رد عمل میں پاکستان سے افغانستان رسد بھیجنے کے تمام راستے بند کر دیے ۔ یہ راستے بدستور بند ہیں۔

XS
SM
MD
LG