رسائی کے لنکس

امریکی کمانڈروں کا افغان جنگ میں پیش رفت کا دعویٰ


جنرل مارٹن ڈمپسی

جنرل مارٹن ڈمپسی

امریکی جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل مارٹن ڈیمپسی اور سنٹرل کمان کے سربراہ جنرل جیمز میٹس افغان اور نیٹو حکام سے بات چیت کے لیے پیر کو کابل پہنچے۔

امریکہ کے اعلیٰ فوجی کمانڈروں نے افغانستان میں سرگرم عسکریت پسندوں کے خلاف کوششوں میں پیش رفت کا دعویٰ کیا ہے۔

یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب افغان سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کی طرف سے اپنے غیر ملکی ساتھیوں پر مہلک حملے تیز ہو گئے ہیں۔

امریکی جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل مارٹن ڈیمپسی اور سنٹرل کمان کے سربراہ جنرل جیمز میٹس افغان اور نیٹو حکام سے بات چیت کے لیے پیر کو کابل پہنچے۔

نیٹو کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ فوجی کمانڈروں نے شدت پسندوں کے خلاف جاری جنگ کا جائزہ لیتے ہوئے افغان پولیس اور افواج کی استعداد کار میں اضافے کی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا۔

افغانستان میں اتحادی افواج کے امریکی کمانڈر جنرل جان ایلن نے کہا کہ ’’(شدت پسندی کے انسداد کی) مہم میں درست سمت میں پیش رفت ہو رہی ہے۔‘‘

بات چیت میں افغان اہلکاروں کے اپنے غیر ملکی ساتھیوں پر حملوں کے حالیہ واقعات بھی زیرِ بحث آئے۔

افغان اہلکار گزشتہ دو ہفتوں کے دوران مختلف واقعات میں 10 غیر ملکی فوجیوں، جن میں سے اکثر کا تعلق امریکہ سے تھا، کو ہلاک کر چکے ہیں۔ اس سلسلے میں تازہ ترین واقعہ گزشتہ اتوار کو پیش آیا تھا، جب کہ رواں سال اب تک اس نوعیت کے حملوں میں کم از کم 39 نیٹو فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔

اس صورت حال کے تناظر میں غیر ملکی فوجی کو ہر وقت اپنے ساتھ ہتھیار رکھنے کا حکم دیا گیا ہے، چاہے وہ اپنے فوجی اڈوں میں ہی کیوں نا موجود ہوں۔

مزید برآں جنرل ڈیمپسی اور جنرل میٹس نے پیر کو اعلیٰ افغان عہدے داروں سے بھی ملاقاتیں کیں۔
XS
SM
MD
LG