رسائی کے لنکس

پاکستان کے راستے امریکی فوجی سامان کی واپسی


(فائل فوٹو)

(فائل فوٹو)

افغانستان میں تعینات امریکی فوج نے اپنا عسکری ساز و سامان پاکستان کے راستے منتقل کرنا شروع کر دیا ہے

افغانستان میں تعینات امریکی فوج نے اپنا عسکری ساز و سامان پاکستان کے راستے منتقل کرنا شروع کر دیا ہے اور اطلاعات کے مطابق 50 بڑے ٹرکوں کے ذریعے پہلی کھیپ پچھلے ہفتے کے اختتام پر افغانستان سے روانہ کی گئی۔

امریکی افواج کے افغانستان میں ایک ترجمان کے مطابق فوجی سامان سے لدے ٹرکوں کی واپسی کا یہ پہلا موقع ہے جو افغانستان سے امریکی دستوں کے انخلاء کے عمل کا ایک حصہ ہے۔

امریکہ افغانستان سے اپنی لڑاکا افواج کو 2014ء کے اواخر تک واپس بلانے کا اعلان کر چکا ہے اور اس عمل کی تکمیل کے لیے فوجی اور غیر فوجی ساز و سامان کی افغانستان سے منتقلی کے لیے پاکستان کے زمینی راستوں کو ہی استعمال کیا جانا ہے۔

نومبر 2011ء میں پاک افغان سرحد پر سلالہ چوکی پر نیٹو کے فضائی حملے میں 24 فوجیوں کی ہلاکت پر احتجاجاً پاکستان نے اپنے زمینی راستوں کے ذریعے افغانستان میں تعینات اتحادی افواج کو ایندھن اور دیگر ساز و سامان کی ترسیل بند کر دی تھی۔ تقریباً سات ماہ کی بندش کے بعد جولائی 2012ء کے اوائل میں سپلائی لائنز کی بحالی کا فیصلہ کیا گیا۔

2012ء میں اگست کے مہینے میں پاکستان اور امریکہ نے نیٹو سپلائی لائنز سے متعلق مفاہمت کی یاد داشت پر دستخط کیے، جس کے تحت پاکستان اپنی سر زمین کے راستے نیٹو افواج کے لیے رسد کی ترسیل پر راہداری ٹیکس وصول نہیں کرے گا اور افغانستان سے 2014ء کے اختتام پر غیر ملکی افواج کے انخلا کے ایک سال بعد تک یہ معاہدہ قابل عمل ہو گا۔

لیکن 2015ء کے بعد راہداری کے اس معاہدے کی ہر سال تجدید ہونا ضروری ہو گی اور اختلافی امور کو طے کرنے سمیت نیٹو قافلوں کی پاکستان کے راستے بغیر کسی تعطل کے آمد و رفت کو یقینی بنانے کے لیے دو مشترکہ رابطہ دفاتر بھی قائم کرنے پر اتفاق کیا گیا تھا۔

پاکستان کی طرف سے 2011ء میں امریکی افواج کے لیے سامان رسد کی ترسیل پر پابندی کے دوران امریکہ نے افغانستان میں اپنی افواج کو دیگر متبادل راستوں کے ذریعے یہ رسد پہنچائی لیکن اس پر کئی گنا زیادہ خرچ کرنا پڑا۔

افغانستان میں اب بھی امریکہ کے 60 ہزار سے زائد فوجی تعینات ہیں کچھ عرصہ قبل تک یہ تعداد ایک لاکھ سے زائد تھی اور عسکری ماہرین کا کہنا ہے کہ خشکی میں گہرے افغانستان سے انخلاء کے لیے سب سے موضوع راستہ پاکستان ہی کا ہے۔

خیبر ایجنسی میں طورخم کے مقام پر پاک افغان سرحد کے زمینی راستے کے علاوہ بلوچستان میں چمن کے راستے امریکہ افواج کا ساز و سامان کراچی کی بندرگاہ تک لانے کے بعد اسے منتقل کیا جائے گا۔

چمن اور طورخم کے سرحدی علاقوں ہی کے ذریعے نیٹو افواج کو پاکستان کے راستے سامان رسد کی ترسیل کی جاتی رہی ہے۔
XS
SM
MD
LG