رسائی کے لنکس

افغانستان سے فوج کی واپسی کی ڈیڈلائن زیربحث

  • روی کھنہ

افغانستان میں امریکی فوجوں کے بارے میں صدر اوباما نے جولائی 2011 کی جو ڈیڈ لائن دی ہے، افغانستان میں امریکہ کی ملٹری کمان میں تبدیلی کے ساتھ ہی، اس کے بارے میں بحث پھر چھڑ گئی ہے۔ کیا یہ فوجوں کی واپسی شروع ہونے کی ڈیڈ لائن ہے یا یہ وہ ڈیڈ لائن ہے جو افغانستان میں طالبان کا زور توڑنے کے لیے مقرر کی گئی ہے تا کہ مستقبل کا لائحۂ عمل طے کیا جا سکے ؟

صدر اوباما نے گذشتہ سال دسمبر میں یہ ڈیڈ لائن مقرر کی تھی جب انھوں نے 30 ہزار مزید فوجی افغانستان بھیجنے کا اعلان کیا تھا۔’’ ان مزید امریکی اور بین الاقوامی فوجیوں کی بدولت ہمارے لیے یہ ممکن ہو جائے گا کہ ہم یہ ذمہ داری افغان فورسز کو تیزی سے منتقل کر سکیں اور جولائی 2011 میں اپنی فوجوں کو افغانستان سے نکالنے کا عمل شروع کر سکیں۔‘‘

لیکن اس اعلان کے چند گھنٹے بعد ہی، وزیر دفاع رابرٹ گیٹس جیسے عہدے داروں نے ڈیڈ لائن کی اہمیت کم کرنا شروع کردی کیوں کہ اندیشہ یہ تھا کہ ڈیڈ لائن کی وجہ سے طالبان اور پاکستانیوں اور افغانوں کو غلط تاثر نہ ملے۔ حال ہی میں امریکی سینٹ میں برطرف شدہ جنرل اسٹینلی میک کرسٹل کی جگہ جنرل ڈیوڈ پیٹریاس کے تقرر کی توثیق کے دوران یہ بحث پھر چھڑ گئی جب سینیٹر لنڈسے گراہم نے کہا’’کسی کو یہ بات شک و شبہے کے بغیر واضح کرنی چاہیئے جب جولائی کا مہینہ آئے گا تو ہم کیا کریں گے کیوں کہ میرے خیال میں اسی سے یہ بات طے ہو گی کہ کوئی افغانستان میں جنگ کے لیے رکے گا یا نہیں۔‘‘

بعض ماہرین سینیٹر گراہم سے متفق ہیں۔ آسٹریلین فوج کے ڈیوڈ کلکولن جو جنرل پیٹریاس کے سابق مشیر ہیں، کہتے ہیں کہ 2011 کی تاریخ سے پاکستانی اور افغان لیڈروں کا انداز فکر متاثر ہو رہا ہے ۔

ڈیوڈ کلکولن کہتے ہیں’’میرے خیال میں پاکستانی اور افغان لیڈر دونوں مستقبل میں طالبان کے ساتھ ممکنہ مذاکرت کے لیے خود کو تیار کر رہےہیں۔میں سمجھتا ہوں کہ ہمارے افغانستان سے نکلنے کی تاریخ کے اعلان سے ایک مسئلہ پیدا ہو رہا ہے اور ہماری اعلان کردہ واپسی کی تاریخ کو بنیاد بنا کر بات چیت کی جا رہی ہے ۔‘‘

لیکن جنرل پیٹریاس نے قانون سازوں کو بتایا کہ ان کے خیال میں اس ڈیڈ لائن سے یہ پیغام دینا مقصود ہے کہ یہ معاملہ فوری توجہ کا متقاضی ہے۔ یہ وہی پیغام ہے جو مزید 30 ہزار امریکی فوجیوں کی تعیناتی سے دیا گیا ہے ۔ انھوں نے کہا کہ امریکی فوجوں کی واپسی کاانتظار کرنے کے بجائے، طالبان باغی اتحادی افواج کے حوصلے پست کرنے کے لیے جنگ کر رہے ہیں۔

جنرل پیٹریاس کے الفاظ ہیں’’یہ بات سمجھنا اہم ہے کہ حالیہ دنوں میں صدر نے اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ جولائی 2011 میں ایک عمل شروع ہو گا۔ یہ وہ تاریخ نہیں ہے جب امریکہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر واپسی کا رُخ کرے گا۔ جیسا کہ انھوں نے گذشتہ اتوار کو وضاحت کی، ہمیں ایک طویل عرصے تک افغانستان کو مدد فراہم کرنا ہوگی۔‘‘

سینٹر فار اسٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز میں افغانستان کے امور کے ماہر اینتھونی کورڈسمین کہتے ہیں کہ صدر کو ابتدا ہی میں زیادہ احتیاط سے کام لینا چاہیئے تھا، اور ڈیڈ لائن کی پوری طرح وضاحت کرنی چاہیئے تھی ۔ وہ کہتے ہیں کہ ڈیڈ لائن کا مطلب صرف یہ نہیں ہے کہ ملک میں امریکی فوجوں کی تعداد کم کر دی جائے۔’’ہمیں 2011 تک اس جنگ میں نمایاں کامیابی کا مظاہرہ کرنا ہوگا ۔ ہمیں یہ دکھانا ہوگا کہ نئی حکمت عملی کارگر ہو سکتی ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ ہمیں فتح حاصل ہو سکتی ہے۔یہی اصل ڈیڈ لائن ہے۔ ڈیڈ لائن کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہم امریکی فوجیوں کی مجموعی تعداد میں کمی کر سکتے ہیں یا نہیں۔‘‘

ڈیڈ لائن کا مطلب کیا ہے اور کیا نہیں ہے، اس سے قطع نظر، بعض تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ ڈیڈ لائن سے اتنا ضرور ہوا ہے کہ نیٹو نے بہت تیزی سے افغان سکیورٹی فورسز کو تربیت دینی شروع کر دی ہے تا کہ جب کبھی بین الاقوامی فورسز افغانستان سے جانا شروع کریں، افغان فورسز ان کی جگہ لینے کو تیار ہوں۔

XS
SM
MD
LG