رسائی کے لنکس

افغانستان میں امریکی فوجیوں کا نیا مشن


افغانستان میں امریکی فوجیوں کا نیا مشن

افغانستان میں امریکی فوجیوں کا نیا مشن

امریکی حکومت اس سال کے وسط سے افغانستان سے اپنے فوجی دستے نکالنے کے عزم پر قائم ہے۔ مگر یہ انخلا مکمل ہونے میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔ امریکہ افغانستان میں ایسے فوجی ماہرین بھیجنے کی تیاری کررہاہے جووہاں شہری امور میں مدد اور مشاورت فراہم کریں گے۔ اس مقصد کے لیے افغانستان بھیجے جانے والے فوجی ان دنوں مختلف امریکی فوجی مراکز میں تربیت کے مراحل سے گذر رہے ہیں۔

جوش پیریش کو امرمریکی فوج میں شہری امور کے افسرکے طور پر اس سال افغانستان بھیجا جا رہا ہے۔جہاں ان کا کام مقامی قبیلوں کی مدد سے کنویں، سڑکیں اور سکول تعمیر کرانے کا ہوگا ۔ لیکن یہ افغانستان میں شدت پسندی کی وجوہات جاننے کے علاوہ یہ کوشش بھی کریں گے کہ امریکی بحریہ کیسے مقامی آبادی کا دل جیت سکتی ہے۔ افغانستان جانے سے پہلے انہوں نے شہری امور سے متعلق ایک تربیتی پروگرام میں حصہ لیا۔

وہ کہتے ہیں کہ ہم افغانیوں کے دل و دماغ جیتنا چاہتے ہیں اور میرے نزدیک اسکا طریقہ مقامی آبادی اور طالبان کے درمیان فرق رکھتے ہوئے کام جاری رکھنا ہے۔ اس کے لیے ان کی ثقافت سے آگہی ضروری ہے۔ اس سے مجھے ان علاقوں کو جاننے میں آسانی رہے گی جہاں حالات سازگار نہیں ۔اور یہ کہ مقامی آبادی کو کن چیزوں کی ضرورت ہے۔

امریکی فوج میں ایسی ثقافتی تربیت کا آغاز عراق جنگ کے بعد ہوا تھا ۔ جب یہ دیکھنے میں آیاکہ امریکی فوجی اس ملک کی ثقافت و روایات سے ناواقف تھے جہاں وہ جنگ لڑ رہے تھے۔ 2005 میں امریکی فوج نے افغانستان اور عراق جانے والے فوجیوں کو عربی، دری اور پشتو سکھانے کے علاوہ ان علاقوں کے مذہبی، معاشی اور سماجی رویو ں کے بارے میں بھی تربیت کا سلسلہ شروع کیا ۔

جارج ڈیلس اس تربیتی پروگرام کے ڈائریکٹر ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ فوجیوں کو اچھی طرح اندازہ ہے کہ کامیابی اور استحکام کے لئے لوگ اہم ہیں اور یہ خطے کی سیکورٹی کے لیے ضروری ہیں اور کیونکہ ہمارے فوجی یہ بات سمجھتے ہیں اس لیے انہیں وہاں انہیں بہتر انداز سے قبول کیا جاتا ہے ۔

امریکی فوج کے دیگر شعبوں کے لیے بھی اسی طرز کے تربیتی پروگرام ہیں۔لیکن امریکی فوجیوں کو دوسرے ممالک میں تعیناتی سے پہلے وہاں کے ماحول و ثفافت سے روشناس کرانے کے لیے اس تربیت کا آغاز امریکی میرینز سے ہی کیا گیا تھا ۔ ڈاکٹر پاؤلا ہومز ایبر ماہر ِ بشریات ہیں اور اس پروگرام میں پڑھاتی ہیں۔ ان کے مطابق شروع میں فوجیوں کے نزدیک جنگ سے پہلے اس ملک کی ثفافت وحالات کو سمجھنا ایک نیا خیال تھا ۔

وہ کہتی ہیں کہ ایک 19 سالہ فوجی جو امریکہ میں پلا بڑھا اور کبھی کہیں امریکہ سے باہر نہ گیا ہو اس کے لیے ان چیزوں کو سمجھنا دشوار ہو جاتا ہے۔ لہذا اس تربیت کا مقصد انہیں یہ سکھانا ہے کہ بے شک وہ لوگ ان کے لیے اجنبی ہیں مگر ہم انہیں سمجھ کر ان کی مدد کر سکتے ہیں۔

ڈاکٹر ہومز ایبر کا کہنا ہے کہ ثفافت سےآگاہی کی بہترین مثال عراق کا صوبہ انبار ہے جہاں مقامی لوگو ں کے ساتھ گفت و شنید اور ثفافت کی سمجھ بوجھ نے ملک کے سب سےزیادہ تشدد پسند صوبے کے حالات بدلے۔ آنے والے سالوں میں ہیٹی یا دنیا کے مختلف حصوں میں تعیناتی کے لئے امریکی فوج اپنے دستوں کوان علاقوں کی ثقافت سے روشناس کروا رہی ہے ۔

میجر جوناتھن کینی امریکی ریاست ورجینیا کے علاقےکوانٹیکو میں ایک تربیتی سکول سے وابستہ ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکی بحریہ کی چھوٹی چھوٹی جنگوں میں شمولیت اس کی تاریخ کے آغاز سے ہی دکھائی دیتی ہیں۔ چونکہ ہمیں یہ نہیں پتہ ہوتا کہ اگلی جنگ یا متاثرہ علاقہ کونسا ہوگا۔ ایسے میں علاقے کے مکینوں کے انداز سے واقفیت ضروری ہو تی ہے۔

ابھی تک امریکی بحریہ کی جانب سے اس پروگرام کے اثرات کا اندازہ لگانا مشکل ہے مگر 2014 ءکی ڈیڈ لائن قریب آنے کے ساتھ امریکی فوج کو امید ہے کہ وہ نہ صرف علاقے میں امن و استحکام لا سکیں گے بلکہ انہیں افغانستان کی روایت و ثفافت کے بارے میں بھی زیادہ بہتر علم ہوگا جو کچھ سال قبل تک وہاں بھیجے جانےو الے فوجیوں کے لیے اجنبی تھیں۔

XS
SM
MD
LG